صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 451
البخاري - جلد ا ادام بالية العالمي كِتَابُ الصَّلوة 00000000000000 بَاب ۱ : كَيْفَ فُرِضَتِ الصَّلَوَاتُ فِي الْإِسْرَاءِ نمازیں معراج میں کس طرح فرض کی گئیں؟ - - كتاب الصلوة وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ اور حضرت ابن عباس نے کہا: ہرقل کا واقعہ بیان فِي حَدِيْثِ هِرَقْلَ فَقَالَ يَأْمُرُنَا - يَعْنِي کرتے ہوئے حضرت ابوسفیان نے مجھے بتلایا۔کہا: النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ ہمیں وہ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز اور سچائی اور بدی وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ۔سے بچنے کا حکم دیتے ہیں۔٣٤٩: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ :۳۴۹ ہم سے یحیی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث نے حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ہمیں بتلایا۔انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ كَانَ أَبُو ذَرٍ سے، ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک سے روایت يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کی۔انہوں نے کہا: حضرت ابوذر بیان کرتے تھے کہ وَسَلَّمَ قَالَ فُرِجَ عَنْ سَقْفِ بَيْتِي وَأَنَا رَسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مکہ میں ہی تھا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی اور جبرائیل اُترے اور بِمَكةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ انہوں نے میرے سینے کو کھولا۔پھر ا سے آب زمزم سے غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتِ مِنْ ھویا۔پھر وہ ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ذَهَبٍ مُمْتَلِى حِكْمَةً وَإِيْمَانًا فَأَفْرَغَهُ فِي ایمان سے بھرا ہوا تھا اور اس کو میرے سینہ میں انڈیل صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي دیا۔پھر اسے بند کر دیا پھر میرا ہاتھ لیا اور سب سے ورلے إلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَلَمَّا جِئْتُ إِلَى آسمان کی طرف مجھے اٹھا کر لے گئے جب میں ورلے السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ آسمان پر پہنچا تو جبرائیل نے آسمان کے محافظ سے کہا: