صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 450
صحيح البخاري - جلد ا ۴۵۰ - كتاب التيمم باب ۹ ٣٤٨: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا ۳۴۸: ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا: عبداللہ نے عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: عوف نے ہمیں بتلایا کہ رَجَاءٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ابور جاء سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : حضرت عمران الْخُزَاعِيُّ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ بن حصین خزاعی نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُعْتَزِلًا لَّمْ اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو الگ تھلگ بیٹھے دیکھا، اس نے جماعت کے ساتھ نماز نہیں؟ پڑھی تو آپ نے يُصَلِّ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ يَا فُلَانُ مَا کہا: اے فلاں ! جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے تم مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ يَا کو کس بات نے روکا ہے؟ تو اس نے کہا: یا رسول اللہ ! رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ میں جنبی ہوں اور پانی نہیں۔ تو آپ نے فرمایا: مٹی لو، قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّعِيْدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ۔ وہ تمہاری ضرورت کو پورا کر دے گی۔ اطرافه: ٣٤٤، ٣٥٧١ ریح : امام بخاری نے باب کا عنان قائم نہیں کیا اور اس میں وہی حضرت عمران بن حصین کی روایت نقل کی ہے جو باب ۶ میں گذر چکی ہے۔ یہ اس لئے کیا ہے ہے کہ کہ تا تا یہ یہ امر امر واضح واضح کر کر دیں دیں کہ کہ ساتویں اور آٹھویں ا باب باب کا کا تعلق در حقیقت اس باب کے مضمون سے ہے اور یہ کہ حضرت عمران اور حضرت عمار کی روایتیں باعتبار صحت نقلاً و عقلاً نہایت مستند اور ہر قسم کی جرح سے بالا ہیں۔ مسئلہ زیر بحث کے متعلق فقہاء کے کے متعلق فقہاء کے اختلافات کو اگر دیکھا جائے تو امام موحد موصوف کی کی حقیقت کا پورا پورا علم ہو سکتا ہے ۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے: بداية المجتهد۔ كتاب التيمم۔ الباب الرابع نيز الباب الخامس، الجزء الاول۔ صفحه ۲۶ - ۲۸) ای جد و جہد باب ۶ میں ایک اصل قائم کر کے جن چار اختلافی مسائل کا ذکر کیا گیا تھا وہ مابعد کے بابوں میں پوری وضاحت اور ثبوت کے ساتھ حل کئے گئے ہیں۔ آٹھویں باب کی روایت ۔ اب کی روایت کے یہ الفاظ قابلِ غور ہیں: قُلْتُ وَ إِنَّمَا كَرِهْتُمُ هَذَا کے یہ الفاظ قا لِذَا ؟ قَالَ نَعَمُ۔ یعنی حضرت ابن مسعودؓ نے جنبی کا بغیر نہانے کے نماز پڑھنا اس لئے مکر وہ سمجھا ہے کہ لوگ پھر تیم کر کے نماز پڑھا کریں گے۔ یہ توجیہہ شرعی نہیں بلکہ محض ایک ذاتی خیال ہے جس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ 00000000000000