صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page lii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page lii

صحيح البخاري ۳۲ دیباچه بعد میں اکٹھی ہو کر المؤطا کی شکل میں مرتب و مدون ہوئیں۔امام بخاری نے کتاب العلم میں دو باب معارضہ ومناولہ کے متعلق باندھے ہیں۔ان سے بھی قرن اول اور قرن ثانی کے طریق کا پتہ چلتا ہے کہ جب طبع واشاعت کا کوئی سامان نہ تھا اور قلمی نسخے کم تھے۔ایک استاد اپنے شاگرد کو کتاب دیتا۔وہ اس کی موجودگی میں دوسروں کو پڑھ کر سناتا اور استاد جہاں ضروری سمجھتا اصلاح کرتا اور اس کے بعد اپنے شاگردوں میں سے قابل اعتمادشاگردکو اجازت دیتا کہ وہ اس کی سند سے ان احادیث کو دوسروں تک پہنچائیں۔(کتاب العلم باب ۷،۶) حَدَّثَنَا وغیرہ الفاظ جو حدیثوں میں آتے ہیں ان سے صرف یہ نہ سمجھا جائے کہ گویا احادیث زبانی ہی روایت کی جاتیں بلکہ اس میں معارضہ، مناولہ ومکاتبہ وغیرہ کی صورتیں بھی شامل ہیں۔صحابہ کرام بصرہ ، بغداد، کوفہ، دمشق اور مصر وغیرہ شہروں میں چلے گئے تھے اور سینکڑوں لوگوں نے جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کیا تھا اور جن کے کان آپ کی پیاری باتوں سے بہرہ ور نہیں ہوئے تھے۔آپ کی صحبت سے فیض یافتہ ساتھیوں سے وہ باتیں سن کر اپنے ارمان نکالے۔جوں جوں مختلف ملکوں کے لوگ اسلام میں بکثرت داخل ہوتے گئے اور اجتماع اسلامی کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔توں توں لوگوں کی ضرورتوں کے تنوع کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل کے متعلق جستجو اور تحقیق میں بھی زیادتی ہوتی چلی گئی۔صحابہ کرام ایسے موقع پر احکام وسنن کے متعلق اپنے حافظہ اور اپنے نوشتوں کی مدد سے مستفسرہ امور کے متعلق جواب دیتے اور اس طرح احادیث اور آثار صحابہ کی تعداد میں وسعت کا پیدا ہونا ایک طبعی امر تھا اور وسعت پیدا ہوئی۔یہ نہیں ہوا کہ انہوں نے از خود محض خیال کی بناء پر اپنی طرف سے نئے مسائل وضع کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیئے۔صحابہ کرام میں زیادہ روایت کرنے والے لے حضرت ابو ہریرہ عبد الرحمن از دی ہیں۔(کتاب العلم باب ۴۲) یہ حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں بحرین کے عامل مقرر ہوئے اور ان کے آٹھ سو کے قریب شاگرد تھے۔جنہوں نے ان سے پانچ ہزار کے قریب روایتیں اخذ کیں۔وہ ۵۹ھ میں فوت ہوئے تھے۔حضرت ابو ہریرہ گو درایت میں بوجہ اہل بادیہ سے تعلق رکھنے کے اعلیٰ درجہ کے نہ تھے مگر ان کا حافظہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اور روزمرہ کی مشق حفظ سے قوی ہو گیا تھا اور روایت کرنے میں محتاط بھی تھے۔(روایت نمبر ۱۲۰،۱۱۹) ان کے علاوہ صحابہ میں سے حضرت عائشہ نہایت ثقہ راوی ہیں جن سے مختلف سندوں سے دو ہزار دو سو دس روایتیں مروی ہیں۔آپ نے ۵۸ ھ میں وفات پائی۔حضرت عائشہ نہ صرف روایت میں ہی بلکہ درایت میں بھی اعلیٰ درجہ کی ثقہ مانی اے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی احادیث کے انتخاب کرنے میں غایت درجہ احتیاط کا پتہ اس امر سے لگتا ہے کہ باوجود اس کے کہ دیگر آئمہ احادیث نے صحابہ کی روایتوں کو وسعت سے اخذ کیا ہے مگر انہوں نے اس کے برخلاف صرف انہی حدیثوں کو لیا ہے جن کی صحت کے متعلق ہر پہلو سے انہیں یقین ہوا۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ کی انہوں نے صرف ۴۴۶، حضرت عائشہ کی ۲۴۲ ، حضرت عبد اللہ بن عباس کی ۲۱۷ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی ۲۷۰ حدیثیں قبول کی ہیں۔وعلی هذا القياس۔(تفصیل کے لئے دیکھئے مقدمہ فتح الباري الفصل العاشر۔ذكر عدة مالکل صحابی۔صفر ۲۲۵-۶۶۸)