صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page liii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page liii

صحيح البخاري ٣٣ دیباچه گئی ہیں اور کئی صحابہ مرد اور عورتیں اور بچے جن کی تعداد دو سو تک شمار کی گئی ہے ان کے شاگرد تھے۔ آپ مدینہ میں مسجد نبوی اورکئی میں درس دیا کرتی تھیں ۔ حضرت عبداللہ بن بن عباس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی : اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں خورد سال تھے اور ان سے کل پچیس مرفوع حدیثیں ثابت ہیں ۔ مگر انہیں دیگر صحابہ کرام سے بہت سی روایتیں سننے اور یاد کرنے کا موقع ملا اور ان سے دو ہزار دوسو چھیاسٹھ حدیثیں مروی ہیں۔ کتاب العلم میں امام بخاری نے حضرت ابن عباس کے متعلق شبہ کا ازالہ کرنے کی خاطر باب ۱۸: مَتى يَصِحُ سَمَاعُ الصَّغِيرِ باندھ کر بتلایا ہے کہ ان کی خورد سالی ان کی روایتوں کو مخدوش نہیں کرتی۔ حضرت علی نے حضرت عبداللہ بن عباس کو بصرہ میں عامل مقرر کیا اور وہاں کے لوگوں کو ان سے حدیثیں سننے اور یاد کرنے کا ایک بہت بڑا موقع ملا۔ یہ دے چھ میں فوت ہوئے۔ صحابہ کرام میں میں سے حضرت رت عبداللہ بن عمر بھی مشہور راوی ہیں ۔ ان سے دو ہزار چھ سو تیس حدیثیں مروی ہیں اور نہایت ثقہ گردانے گئے ہیں۔ آے ھ میں فوت ہوئے ۔ مکہ مکرمہ میں بود و باش رکھتے تھے اور سلطنت کے سیاسی امور سے بالکل الگ رہتے اور آنحضرت کی اتباع کا غایت درجہ شوق رکھتے تھے۔ (دیکھئے کتاب الصلوۃ روایت نمبر ۴۸۳) حضرت ابو سعید خدری بھی ہے جو میں فوت ہو۔ فوت ہوئے اور ان سے دو ہزار ایک سوستر حدیثیں مروی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص، مصر میں تھے ۔ ۷۵ھ میں فوت ہوئے۔ ان سے سات سواحادیث مروی ہیں۔ یہ حدیثیں لکھ لیا کرتے تھے۔ (روایت نمبر ۱۱۳) ان صحابہ میں سے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے کا کم موقع ملا یا جو حضرت زبیر کی طرح حدیث میں کسی قسم کی کمی یا بیشی واقع ہونے کے خوف سے روایت کرنے میں بہت ہی احتیاط کرتے تھے۔ ت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت علیؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ۳۶۰ اور ان خلفائے راشدین میں سے ہر ایک نے پانچ سو سے کچھ زائد احادیث روایت کی ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کوفہ اور بصرہ کے عامل تھے اور ۵۲ھ میں فوت ہوئے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ بن عمرو بھی مشہور صحابی ہیں جو مدینہ میں رہتے تھے اور دے ھ میں فوت ہوئے۔ ان سے ۲۵۴۰ روایتیں مروی ہیں۔ حضرت انس بن مالک بھی مشہور صحابی ہیں۔ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے کا بہت موقع ملا۔ انہوں نے بھی بصرہ املا۔ انہوں نے بھی بصرہ میں بود و باش اختیار کر لی تھی اور حضرت ابو الطفيل عامر بن واثلہ آخری صحابی تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق نااھ حضرت میں فوت ہوئے۔ اس فہرست پر سرسری نظر ڈالنے سے بآسانی معلوم ہو سکتا ہے کہ صحابہ کرام مختلف شہروں میں پائے جاتے تھے جہاں انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں پہنچانے کا موقع ملا اور ایک سو سال تک انہوں نے ہزاروں آدمیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں پہنچائیں اور ان سے روایت کرنے والے مشہور ثقہ تابعین ہر جگہ پائے جاتے تھے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل مختصر فہرست پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوگا۔ خط وحدانی میں ان کی وفات کی تاریخ دی گئی ہے۔