صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page li
صحيح البخاري ۳۱ دیباچه در حقیقت صحابه کرام کا دل و دماغ اس غایت درجہ عشق و محبت کی وجہ سے جو ان احادیث کی زندہ کتاب کرواتے ہیں آقا سے تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ تربیت کے ماتحت آپ کے سوانح حیات کے محفوظ رکھنے کے لئے ایک زندہ کتاب بن چکا تھا۔ جس کے حروف نہ مٹنے والے تھے۔ وہ آپ کی سوانح حیات اور آپ کی ہر گفت و کردار کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے دور پہنچانے کے لئے دور دراز ملکوں میں نکل گئے تھے۔ انہوں نے اپنا یہ مقدس فرض سمجھا ہوا تھا کہ اپنے ہادی کی ہدایات کی پوری پوری تحمیل کریں اور آپ کی باتوں کو اکناف عالم میں اپنوں اور غیروں تک پہنچائیں ۔ وہ اپنے عشق اور فریفتگی میں اس انتہائی مقام تک پہنچے ہوئے تھے کہ ہمارے لئے ان کا تصور میں لانا بھی ناممکن ہے۔ صحابہ کرام آپ کی ہر حرکت و ہر سکون کے متعلق قرآن مجید کے حکم إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ۔ (ال عمران : (۳۱) کے ماتحت اپنا یہ فرض سمجھتے تھے کہ ان کی اتباع کریں اور آپ کے رنگ میں رنگین ہوں ۔ ان کے عاشقانہ انداز کے واقعات کی مختصر تاریخ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے کتاب العلم باب ۴۱ اور روایت ۳۶ ،۵۰۱-۵۰۳ دیکھئے اور ان سے اندازہ کریں کہ صحابہ کرام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تعلق تھا۔ فرض تبلیغ کی ادائیگی قرن اولی میں انہوں نے لاریب آپ کے احکام کی قبیل میں آپ کا پیغام : اور آپؐ کی باتیں اکناف عالم میں : عالم میں پہنچانے نے اور پھیلانے میں کوئی لمحہ اور کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ ان کی زندگیاں شب و روز صرف اسی غرض کے لئے وقف ہو چکی تھیں۔ کیا مرد اور کیا عورتیں دونوں اس فریضہ تبلیغ میں اپنے اپنے دائرہ میں مشغول رہے اور کسی دنیاوی حکومت کی تلوار کا خوف و ہراس انہیں اس فرض کی ادائیگی سے باز نہ رکھ سکا۔ (کتاب العلم باب ۱۰، ۳۷) یہاں تک کہ انہوں نے اس بار امانت کو کمال دیانت کے ساتھ دوسروں تک پہنچادیا اور ان کے اس فریضہ تبلیغ کی ادائیگی کے ساتھ قرن اول کا خاتمہ ہو کر ایک دوسرا دور شروع ہوا۔ جس میں احادیث میں آمیزش کا خطرہ نمودار ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے فوری تدارک کے تمام ضروری سامان بھی معا پیدا کر دیئے ۔ جیسا کہ کتاب العلم کے باب ۳۴ کے مضمو ۳۴ کے مضمون سے واضح ہوتا ہے۔ قرن ثانی کا آغاز : تاریخ سے بھی اس بات کا یقینی ثبوت ملتا ہے کہ ام مبنی ثبوت ملتا ہے کہ احادیث کی روایت میں صرف زبانی لالا گفت و شنید و قیل و قال پر ہی دار و مدار نہیں رکھا گیا ۔ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی بعض صحابہ کرام کو آپ کی باتیں لکھنے کا خیال پیدا ہوا اور پہلی اور دوسری صدی میں ہی ایسے لوگ پیدا ہو گئے تھے جو احادیث کو ضبط تحریر میں لائے۔ جیسا کہ اس کا ابھی مختصر ذکر کیا جا چکا ہے۔ ان تمام شواہد سے یہ بات بیا یہ ثبوت پہنچتی ہے کہ جب احادیث کے متعلق تدلیس کا خطرہ پیدا ہوا تو پھر محض کسی زبانی روایت پر ہی اعتماد نہیں رکھا گیا بلکہ اس بارے میں مزید احتیاطیں بروئے کار لائی گئیں۔ خود صحابہ کرام کو بھی جب کسی امر کے متعلق شبہ ہوتا تو وہ کسی دوسرے صحابی کی یادداشت سے مدد لیتے یا اپنی نوشتہ یادداشتوں کی جانچ پڑتال کرتے ۔ (کتاب العلم باب (۱۹) حضرت انس تو جب کبھی ان سے کوئی بات یا مسئلہ دریافت کیا جاتا تو وہ اپنی مرقومہ محفوظات کی دیکھ بھال کرنے کے بعد جواب دیتے ۔ امام مالک بھی اپنے شاگردوں کو جو ایک بہت بڑی تعداد تک پہنچ گئے تھے حدیثیں لکھوایا کرتے تھے جو