صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 444 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 444

البخاري - جلد ا الصِّرْمَ الَّذِي هي هم هم سوم - كتاب التيمم مِنْهُ فَقَالَتْ يَوْمًا اور جس قبیلہ سے وہ تھی اس کو نقصان نہ پہنچاتے۔ایک لِقَوْمِهَا مَا أَرَى أَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ دن اس نے اپنی قوم سے کہا: میں سمجھتی ہوں کہ یہ لوگ تم يَدْعُوْنَكُمْ عَمْدًا فَهَلْ لَّكُمْ فِي الْإِسْلَام کو عمداً چھوڑتے ہیں۔پس کیا تمہیں اسلام میں داخل ہونے کی خواہش ہے؟ اس پر انہوں نے اس کی بات فَأَطَاعُوْهَا فَدَخَلُوْا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ أَبُو مان لی اور وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ابو عبد اللہ نے کہا: عَبْدِ اللهِ صَبَأَ خَرَجَ مِنْ دِيْنِ إِلَى غَيْرِهِ صبا کے معنی ہیں ایک دین سے نکل کر دوسرے دین میں - وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ الصَّابِئِينَ (البقرة : ٦٣) وَفِي النُّسْخَةِ الصَّابِئُونَ ـ فِرْقَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يَقْرَءُوْنَ الزَّبُوْرَ۔{ أَصْبُ (يوسف: ٣٤) أَمِلْ}۔اطرافه: ٣٤٨، ٣٥٧١ تشریح: چلا گیا اور ابوالعالیہ نے کہا: الصَّابِئِينَ اور ایک نسخہ کے مطابق الصَّابِؤُونَ کہا۔اہل کتاب کا ایک فرقہ ہے جو زبور پڑھا کرتے تھے۔{ ( سورہ یوسف آیت ۳۴ میں جو ) اصبُ ( آیا ہے اس کے معنی ہیں ) جھک جاؤں گا۔} اس باب میں چار مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔پہلا یہ کہ صَعِيدًا طَيِّبًا سے کیا مراد ہے آیا مطلق مٹی یا وہ تمام اشیاء بھی مراد ہیں جو زمین کے اجزاء ہیں جیسے پتھر ، کنکریاں، ریت، چونا وغیرہ؟ دوسرا یہ کہ آیا کہ ہر نماز کے لئے تمیم دہرایا جائے یا جب تک بے وضو نہ ہو نمازیں ایک ہی وضو کے ساتھ پڑھ سکتا ہے؟ تیسرا یہ کہ کیا تیم کر کے امامت کر سکتا ہے؟ چوتھا یہ کہ صعید کے اگر لغوی معنی مراد لئے جائیں تو پھر شورہ زمین پر تیم کرنا جائز نہ ہوگا۔کیونکہ صعید اس زمین کو کہتے ہیں جس میں شورہ وغیرہ مواد نہ ہوں۔(لسان العرب۔تحت لفظ صعد۔المجلد الرابع۔صفحه ۲۴۴۶) چوتھے اور پانچویں باب میں حضرت عمار کی روایت میں الفاظ فَضَرَبَ النَّبِيُّ ﷺ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ لفظِ صَعِيد کی تشریح کرتے ہیں کہ اس سے مراد مطلق سطح زمین ہے۔نیز یہ حدیث ( نمبر ۳۳۵) بھی اس کی تشریح کرتی ہے: جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا۔امام شافعی کے سوا باقی ائمہ اس مسئلہ میں وسعت سے کام لیتے ہیں۔امام ابو حنیفہ نے تو چونے وغیرہ سے تیم کرنا بھی جائز قرار دیا ہے۔(بداية المجتهد۔كتاب التيمم۔الباب الخامس فيما تصنع به هذه الطهارة۔الجزء الاول۔صفحه ۲۸) دوسرے مسئلہ کے متعلق اس روایت (نمبر ۳۴۴) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پانی ملنے پر تیم باطل ہو جائے گا۔جیسا کہ پانی ملنے پر آپ نے جنبی کو نہانے کے لئے فرمایا اور اگر پانی نہ ملتا تو تیم اس کے لئے ویسے ہی طہور تھا جیسے پانی۔تیسرا مسئلہ بھی اسی سے اخذ کیا ہے۔یعنی جب تیم پانی کا قائم مقام ہے اور مسلمان کی وہی ضرورت پوری کرتا ہے جو پانی کرتا ہے تو پھر امامت کرنی بھی جائز ہے اور اس کے ذریعہ حالت جنابت میں بھی معنوی طہارت حاصل ہو جاتی ہے۔الفاظ أَصْبُ أمل، فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۵۸۱)