صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 443
البخاري - جلد ا - كتاب التيمم آخِرَ ذَاكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ اور فرمایا: جاؤ اور اسے اپنے اوپر ڈال لو اور وہ ؛ جو الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِّنْ مَّاءٍ قَالَ اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ کچھ اس کے پانی کے ساتھ کیا جارہا تھا؛ کھڑی دیکھ عَلَيْكَ وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يُفْعَلُ رہی تھی اور اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اُن پکھالوں سے بِمَآئِهَا وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا وَإِنَّهُ لوگ ایسی حالت میں ہے کہ ہمیں معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس وقت سے بھی زیادہ بھری ہوئی ہیں کہ جب آپ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مِلْأَةً مِّنْهَا حِيْنَ نے ان سے پانی لینا شروع کیا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ ابْتَدَأَ فِيْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کچھ اکٹھا کرو تو اس کے وَسَلَّمَ اجْمَعُوْا لَهَا فَجَمَعُوْا لَهَا مِنْ بَيْنِ لیے کچھ خشک کھجور میں اور کچھ آٹا اور کچھ ستو اکٹھے عَجْوَةٍ وَّدَقِيْقَةٍ وَسَوِيْقَةٍ حَتَّى جَمَعُوْا کئے۔یہاں تک کہ اس کے لیے بہت سی خوراک جمع لَهَا طَعَامًا فَجَعَلُوْهَا فِي ثَوْبِ وَحَمَلُوْهَا کردی اور ایک کپڑے میں ڈال کر اس عورت کو اس عَلَى بَعِيْرِهَا وَوَضَعُوا التَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا کے اونٹ پر سوار کیا اور وہ کپڑا اُس کے سامنے رکھ قَالَ لَهَا تَعْلَمِيْنَ مَا رَزَقْنَا مِنْ مَّائِكِ شَيْئًا دیا۔آپ نے فرمایا: تم جانتی ہو کہ ہم نے تمہارے ولَكِنَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي أَسْقَانَا فَأَتَتْ أَهْلَهَا پانی سے کچھ بھی کم نہیں کیا ہے۔لیکن اللہ ہی ہے جس وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ قَالُوا مَا حَبَسَكِ يَا نے نہیں پلایا ہے اس کے بعد وہ اپنے گھر والوں کے فُلَانَةُ قَالَتِ الْعَجَبُ لَقِيَنِي رَجُلَانِ پاس آئی اور وہ اُن سے رکی رہی تھی۔کہنے لگے: اے فلانی! تجھے کس چیز نے روکا تھا۔کہنے لگی : عجیب بات ہوئی۔مجھے دو آدمی ملے اور وہ مجھ کو اُس (شخص) کے فَذَهَبَابِي إِلَى هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِيُّ فَفَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَوَاللَّهِ إِنَّهُ پاس لے گئے جسے صابی کہا جاتا ہے اور اُس نے اللہ کی لَأَسْحَرُ النَّاسِ مِنْ بَيْنِ هَذِهِ وَهَذِهِ قسم ایسا ایسا کیا اور وہ اس اور اُس کے درمیان تمام لوگوں وَقَالَتْ بِإِصْبَعَيْهَا الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ سے بڑھ کر جادو گر ہے اور اپنی درمیانی انگلی اور سبابه فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ تَعْنِي السَّمَاءَ یعنی انگوٹھے کے پاس والی انگلی سے نیچے کو اشارہ کیا اور وَالْأَرْضَ أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ حَقًّا فَكَانَ پھر ان دونوں کو اوپر کو اٹھایا اور اس کی مراد آسمان وزمین الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ ذَلِكَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ تھے۔یا یہ کہ وہ یقینا اللہ کے سچے رسول ہیں۔اس کے حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ وَلَا يُصِيْبُونَ بعد مسلمان اس عورت کے ارد گرد مشرکوں پر حملہ کرتے ارد