صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 445 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 445

البخاري - جلد ا ۴۴۵ - كتاب التيمم امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے یہ چار مسائل اس اصل کے ماتحت حل کئے ہیں: الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ المُسْلِمِ يَكْفِيهِ مِنَ المَاءِ۔چونکہ ترندی کی مشار الیہا روایت ان کی شرط کے مطابق نہ تھی ، اس لئے یہ لمبی روایت لائے ہیں جس کے الفاظ عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِیک تزندگی کی روایت کے ہم معنی ہیں۔بعض علماء تمیم کو وضو کا تو قائم مقام سمجھتے ہیں مگر غسل کا نہیں۔سابقہ روایات میں اس بات کی طرف اشارہ گذر چکا ہے کہ حضرت عمر نے سائل کو جو جنبی تھا یہ فتویٰ دیا تھا کہ نماز نہ پڑھو اور حضرت عمار نے ان کو اپنا واقعہ سنایا۔حضرت عمر بھی جنسی ہو گئے تھے اور انہوں نے تمیم کر کے نماز نہیں پڑھی۔(دیکھئے روایت نمبر ۳۸ ۳ نیز تشریح باب ۴) اس روایت سے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے استدلال کر کے اس مذہب کی تائید کی ہے جس کی رو سے جنبی بھی تیم کر کے نماز پڑھ سکتا ہے۔باب ۷ إِذَا خَافَ الْجُنُبُ عَلَى نَفْسِهِ الْمَرَضَ أَوِ الْمَوْتَ أَوْ خَافَ الْعَطَشَ تَيَـ جب جنبی اپنی جان پر بیماری یا موت سے ڈرے یا پیاس سے ڈرے تو وہ تیم کر لے وَيُذْكَرُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَجْنَبَ اور بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عمرو بن عاص ایک ٹھنڈی لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فَتَيَمَّمَ وَتَلَا وَلَا تَقْتُلُوا رات میں جنبی ہوئے تو انہوں نے تیتم کر لیا اور یہ آیت أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا پڑھی: وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ۔۔۔یعنی اپنے آپ (النساء: ٣٠) فَذُكِرَ { ذَلِكَ } لِلنَّبِيِّ کو ہلاک مت کرو۔اللہ تعالیٰ تم پر بہت ہی رحم کرنے والا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُعَنِّفْ۔ہے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اس کا ) ذکر کیا گیا تو آپ نے انہیں ملامت نہیں کی۔٣٤٥: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ :۳۴۵ ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا کہا : محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةُ عَنْ غندر نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے شعبہ سے شعبہ نے سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلِ قَالَ قَالَ أَبُو سلیمان سے سلیمان نے ابو وائل سے روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ حضرت ابو موسی نے حضرت عبداللہ بن ابوموسیٰ مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ إِذَا لَمْ يَجِدِ مسعودؓ سے کہا کہ جب پانی نہ پائے تو نماز نہ پڑھے؟ الْمَاءَ لَا يُصَلِّي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَ نَعَمْ إِنْ لَّمْ حضرت عبد اللہ نے کہا: ہاں اگر میں مہینہ بھر پانی نہ أَجِدِ الْمَاءَ شَهْرَالْمْ أُصَلِ } لَوْ رَخَصْتُ پاؤں تو نماز نہ پڑھوں کے } اگر میں انہیں اس کے لے لفظ ذلک فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۵۸۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ل الفاظ نَعَمُ إِنْ لَّمْ أَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا لَّمُ أَصَلِّ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں (فتح الباری جز عادل حاشیہ صفحہ۵۸۹)