صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 441
صحيح البخاري - جلد ا ۱ - كتاب التيمم سَفَرٍ مَّعَ النَّبِيِّ لا وَإِنَّا أَسْرَيْنَا حَتَّى ہوئے ہمیں بتلایا۔ کہا: ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا وَقْعَةً میں تھے اور ہم رات کو چلے ۔ جب رات کا آخری حصہ ہوا وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا تو ہم ایسی نیند پڑ گئے کہ مسافر کے نزدیک اس سے زیادہ میٹھی اور کوئی نہ ہوگی۔ پھر ہمیں سورج کی گرمی ہی نے فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ وَكَانَ صلى الله جگایا اور سب سے پہلے جو جاگا ؛ فلاں تھا۔ پھر فلاں ، پھر أَوَّلَ مَنْ اسْتَيْقَظَ فُلَانٌ ثُمَّ فُلَانٌ ثُمَّ فلاں۔ ابو رجاء ان کا نام لیتے تھے مگر عوف بھول گئے ۔ فُلَانٌ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ فَنَسِيَ عَوْفٌ پھر حضرت عمر بن خطاب چوتھے۔ اب چوتھے تھے اور نبی علی کو جب ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الرَّابِعُ وَكَانَ آپ سوتے نہ جگایا جاتا۔ یہاں تک کہ آپ ۔ خود ہی النَّبِيُّ اللَّهِ إِذَا نَامَ لَمْ يُوقَظُ حَتَّى جاگتے ۔ کیونکہ ہمیں پتہ نہ ہوتا کہ آپ کی نیند میں آپ کو يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ لِأَنَّا لَا نَدْرِي مَا کیا کچھ پیش آرہا ہے ۔ جب حضرت عمرؓ جاگے اور انہی نے جو کچھ لوگوں پر گذرا تھا دیکھا ؟ اور وہ دل يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ وَكَانَ انہوں اور وہ دلیر آدمی تھے۔ انہوں نے اللهُ أَكْبَرُ کہا اور تکبیر کے ساتھ اپنی آواز بلند کی اور وہ اللهُ أَكْبَرُ کہتے رہے اور تکبیر کے ساتھ اپنی رَجُلًا جَلِيدًا فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ آواز بلند کرتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ نبی ا آن فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ کی آواز سے جاگ پڑے ۔ جب آپ جاگے تو حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ النَّبِيُّ الهِ فَلَمَّا لوگوں نے جو اُن کے ساتھ ہوا تھا اُس کی آپ کے پاس اسْتَيْقَظَ شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ شکایت کی ۔ آپ نے فرمایا: کوئی ضرر نہیں۔ لَا ضَيْرَ قَالَ لَا ضَيْرَ أَوْ لَا يَضِيرُ ارْتَحِلُوا فرمايا يا لَا يَضِيرُ - کوچ کرو اور آپ نے کوچ کیا۔ فَارْتَحَلَ فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا کچھ دور نہیں گئے تھے کہ آپ اُترے اور وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا اور نماز کی منادی کی گئی اور آپ نے بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ اپنی نماز پڑھ کر فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ پھرے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص ہے جو الگ صَلَاتِهِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ تھلگ بیٹھا ہے۔ اُس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں مَعَ الْقَوْمِ قَالَ مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ پڑھی تھی ۔ آپ نے فرمایا: اے فلاں! لوگوں کے تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ قَالَ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ساتھ نماز پڑھنے سے کس بات نے روکا ہے؟ اُس