صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 440 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 440

حيح البخارى جلد ا ۴۴ - كتاب التيمم إلى المِرْفَقَيْنِ ہے۔اس لیے نہیں کہ اس کی سند مضبوط ہے بلکہ اس لئے کہ حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن عباس کی روایت میں بھی إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ آتا ہے۔نیز قیاس بھی یہی چاہتا ہے کہ کہنیوں تک مسح ہو کیونکہ تیم وضو کا قائم مقام ہے اور وضو میں ہم ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوتے ہیں۔یہ دلیل ہے اُن علماء کی جو کہنیوں تک مسح کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔مگر باوجود ان تمام باتوں کے امام بخاریؒ حضرت عمار بن یاسر کی روایت کو ترجیح دیتے ہیں۔سابقہ باب میں یہ روایت بلحاظ مضمون کے ذرا تفصیل سے نقل کی گئی ہے اور اس باب میں اس کی چھ اور سند میں بیان کی گئی ہیں جن کا مضمون اس بارے میں متفق ہے کہ (يَكْفِيْكَ الْوَجْهُ وَالْكَفَّانِ) منہ اور ہاتھ کا سح کرنا کافی ہے۔دوسری روایت میں ( جو نضر بن شمیل کے حوالہ سے منقول ہے ) اس بات کی تصریح ہے کہ حکم نے نہ صرف ذر سے سنا بلکہ سعید بن عبد الرحمن سے بھی سنا۔دوسری روایت میں یہ زیادتی ہے: الصعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ يَكْفِيهِ مِنَ الْمَاءِ۔روایت نمبر ۳۴۰ میں نَفَخَ فِيهِمَا کی بجائے تَفَلَ فِيْهِمَا ہے۔تَفَلَ بلحاظ معنی کے نَفَخَ سے ذرا زیادہ قوت رکھتا ہے۔نَفَخَ ، نَفَتْ، تَفَلَ اور بَزَق (نیز بَصَقَ (۲) کے الفاظ اپنے معانی میں ترتیب وار قوت رکھتے ہیں۔(لسان العرب۔تحت لفظ تفل) غرض یہ سب روایتیں بعض جزوی اختلافات کے باوجود اس بات پر متفق ہیں کہ صرف چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا جائے۔بَاب ٦ : الصَّعِيْدُ الطَّيِّبُ وَضُوْءُ الْمُسْلِمِ يَكْفِيْهِ مِنَ الْمَاءِ پاکیزہ مٹی مسلمان کے لئے وضو کی قائم مقام ہے جو اُس کی پانی کی ضرورت کو پورا کر دیتی ہے۔وَقَالَ الْحَسَنُ يُجْزِتُهُ التَّيَمُّمُ مَا لَمْ حسن (بصرى) نے کہا کہ تیم اس کو اس وقت تک کام يُحْدِثْ وَأَمَّ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَيَمَم دیتا ہے جب تک کہ بے وضو نہ ہو اور حضرت ابن وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ لَّا بَأْسَ عباس نے امامت کی اور انہوں نے تیتم کیا ہوا تھا۔بِالصَّلَاةِ عَلَى السَّبَخَةِ وَالتَّيَمُّمِ بِهَا۔اور یحییٰ بن سعید نے کہا: شورہ زمین پر نماز پڑھنے اور اس سے تیتم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔٣٤٤ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنِي ۳۴۴ : ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا: بیچی بن سعید نے يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ قَالَ مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عوف نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ قَالَ كُنَّا فِي کیا کہا: ابور جاء نے حضرت عمران سے روایت کرتے لفظ بَصَقَ لغت میں بَزَق کے معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(لسان العرب۔تحت لفظ بصق)