صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page l of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page l

صحيح البخارى دیباچه چہارم: آپ کا دل نشین انداز اور سیدھے سادھے پیرایہ میں بات بیان کرنا اور بار بار اسے دہرانا تا کہ آپ کی باتیں ان کے دل و دماغ میں راسخ ہو جائیں۔(کتاب العلم باب ۳۰ ،۴۹،۴۰) پنجم : صحابہ کرام کا تحصیل علم کے لئے آپ کے پاس دور ونزدیک سے آنا اور آپ کے اردگرد اور آپ کے سامنے ادب اور خاموشی اور توجہ سے سننے کے لئے بیٹھنا۔(کتاب العلم باب ۲۵ تا ۲۷ و ۲۹ ) ششم: آپ کا صحابہ کرام کو خاموشی سے سنے سیکھنے اور حفظ کرنے کی ترغیب وتحریص دلانا۔(کتاب العلم باب ۲۰،۱۵، ۳۱،۲۵ ۴۳۰) ہفتم: آپ کا بحیثیت ایک دانشمند معلم کے تعلیم اور اس کے عملی پہلو کا خیال رکھنا۔(کتاب العلم باب ۲۸، ۴۸ ۵۳۰ ) آپ کا صحابہ کرام کی معلومات کی صحت اور سقم معلوم کرنے اور ان کے قیاس و فکر کی استعداد بڑھانے کے لئے ان کا جائزہ لیتے رہنا۔(کتاب العلم باب ۵) ہشتم: آپ کا صحابہ کرام کے اعمال کی جزئیات پر نظر رکھنا اور ان کی اصلاح کرنا۔(کتاب العلم باب۳) نم : صحابہ کرام کا آپ سے مسائل وغیرہ پوچھنا اور ان کو سمجھنا۔(کتاب العلم باب ۵۱،۵۰،۴۶،۴۵،۳۶،۲۶) بلکہ بعض وقت اصرار اور آزادی سے دریافت کرنا۔( روایت نمبر ۲۲۹،۲۷) دہم : صحابہ کرام کا آپس میں احادیث کے متعلق تبادلہ خیال اور ذکر واذکار سے انہیں تازہ کرتے رہنا۔کتاب الایمان باب نمبرا، کتاب العلم باب ۴۲ ۴۴ ) یازدهم : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کرام کوتاکید فرمانا کہ آپ کی باتیں دوسروں تک پہنچا ئیں۔(کتاب العلم باب ۲۵،۲۰۰۹) دواز دہم : صحابہ کرام کا یہ یقین کہ اگر آپ کی باتیں دوسروں تک نہ پہنچائی جائیں گی تو وہ گناہ عظیم میں مبتلا ہوں گے۔(کتاب العلم روایت نمبر ۱۲۸۔کتاب الوضوء روایت نمبر ۱۵۹) سیز دہم : آپ کا یہتا کید فرمانا کہ آپ کی طرف غلط اور جھوٹی باتیں منسوب نہ کی جائیں۔(کتاب العلم باب ۳۸) چہار دہم : صحابہ کرام کا آپ کی باتیں یاد کرنے اور پہنچانے کے متعلق آپ کی ہدایت کی تعمیل کرنا۔(کتاب العلم باب ۲۲۰۱۰ نیز کتاب العلم روایت نمبر ۱۵۹) پانزدہم : صحابہ کرام کا صحت لفظی کے ساتھ آپ کی باتیں حفظ کرنا اور انہیں احتیاطاً لکھنا اور لکھوانا ( کتاب العلم باب ۳۹) شانز دہم : صحابہ کرام کاروایت بیان کرنے کے متعلق غایت درجہ کی احتیاط برتنا۔(کتاب العلم روایت نمبر ۱۰۷) اور بوقت روایت الفاظ کے متعلق اپنے شک وشبہ کا بھی اظہار کر دینا۔( باب ۴۴۳۹۔روایت نمبر ۱۳۳) غرض یہ وہ اہم اسباب ہیں جن کا ذکر امام بخاری نے کتاب العلم میں کیا ہے اور جو درحقیقت احادیث محفوظ کرنے میں ضامن اور متکفل تھے۔عربوں کا حافظہ نہایت ہی قوی تھا۔سینکڑوں اسماء وانساب اور اشعار انہیں از بر تھے اور یہی وہ حیرت انگیز حافظہ تھا جو قرآن مجید کی حفاظت کا بھی ایک سبب ہوا۔