صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 439
صحيح البخاري - جلد ا ۴۳۹ - كتاب التيمم تَمَعَكْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عمار نے حضرت عمر سے کہا کہ میں مٹی میں لوٹا وَسَلَّمَ فَقَالَ يَكْفِيكَ الْوَجْهُ وَالْكَفَّانِ تھا اور پھر نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: منہ صلى الله اور ہاتھوں کا مسح کرنا ہی تمہارے لئے کافی ہے۔ اطرافه: ۳۳۸، ۳۳۹، ۳۷۰ ، ۳۷۲، ۳۷۳، ٣٤٥، ٣٤٦، ٣٤٧ ٣٤٢: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ حَدَّثَنَا ۳۴۲ : ہم سے مسلم ( بن ابراہیم ) نے بیان کیا ( کہا:) شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ ذَرِّ عَنِ شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ ذر سے، ذر نے ابن عبدالرحمن ( بن ابری) سے ، انہوں الرَّحْمَنِ قَالَ شَهِدْتُ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ نے عبد الرحمن سے روایت کی۔ کہتے تھے کہ میں حضرت عَمَّارٌ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ۔ عمر کے پاس حاضر ہوا اور ان کو حضرت عمار نے کہا ۔۔۔۔۔ اور پھر ساری حدیث بیان کی ۔ اطرافه: ۳۳۸، ۳۳۹، 34۰ ، 341، 343، 345، 346، 347۔ ٣٤٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ۳۴۳: ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا: غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) شعبہ نے ہمیں الْحَكَمِ عَنْ ذَرِّ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بتلایا ۔ انہوں نے حکم سے ، حکم نے ذر حکم نے ذر سے، ذر نے ابْنِ أَبْرَى عَنْ أَبِيْهِ قَالَ قَالَ عَمَّارٌ ابن عبد الرحمن بن ابزئی سے، انہوں نے اپنے باپ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی ۔ کہتے تھے کہ حضرت عمار نے کہا: نبی بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَ كَفَّيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنا ہاتھ مارا اور پھر اپنے منہ اور اپنے دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔ اطرافه: ۳۳۸ ، ۳۳۹ ، ۳۷۰ ، ۳۱ ، ۳۷۲، ٣٤٥، ٣٤٦، ٣٤٧ تشریح: ایک مشہور اختلاف حل کرنے کے لئے امام بخاری نے پورے جزم و تاکید کے ساتھ باب کا عنوان قائم کیا ہے اور اس ضمن میں چھ راویوں کی سندیں پیش کی ہیں جو شعبہ سے روایت کرتے ہیں۔ تین تو موقوف ہیں اور تین مرفوع پہلی پانچ روایتوں میں امام بخاری اور شعبہ کے درمیان ایک راوی ہے اور چھٹی روایت میں دو۔ امام موصوف کو اس قدر سندیں پیش کرنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ حضرت عمار کی یہ روایت اس قابل نہیں کہ اس سے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنے کا مسئلہ اخذ کیا جائے ۔ کیونکہ انہی سے کہنیوں اور مونڈھوں اور بغلوں تک مسح کرنے کی روایتیں بھی نقل کی جاتی ہیں۔ ان کے نزدیک حضرت عمار کی وہ روایت قابلِ اعتماد ہے جس میں