صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xlix
صحيح البخارى ۲۹ دیباچه زمانہ میں بھی موجودہ واقعات کے متعلق ایک دوسرے سے ذکر اذکار کرنے میں کوئی حوالہ دینے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی مگر بعد میں جب موضوعات کا سلسلہ شروع ہوا تو ضرورت محسوس کرتے ہوئے سندوں کو بھی ضبط میں لایا گیا۔غرض حالات کو دیکھتے ہوئے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے محمد بن شہاب زہری (تابعی) سے کہا کہ احادیث کو ضبط تحریر میں لایا جائے۔ایسا ہی انہوں نے اپنے ان عمال کو بھی اس کے متعلق احکام بھیجے جن میں سے ابو بکر بن حزم انصاری ( تابعی ) بھی ہیں جو اس وقت مدینہ کے قاضی تھے۔(دیکھئے تشریح کتاب العلم باب ۳۴) بعض محققین کے نزدیک عبدالملک بن جریج بصری (متوفی ۱۵۰ )، ربیع بن صبیح (متوفی ۱۲۰ھ ) ، ابو نصر سعید بن ابی عروبہ (متوفی ۱۵۶ھ)، محمد بن شہاب زہری سے پہلے احادیث کو کتابوں کی صورت میں جمع کر چکے تھے مگر یہ کتابیں ناپید ہیں۔امام سیوطی اور علامہ مقریزی کی تحقیق کی رو سے زہری ہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے احادیث کو کتاب میں جمع کیا۔مگر یہ کتاب بھی نا پید ہے بوجہ اس کے کہ اس سے بہتر کتاب الموطا کی طرف لوگوں کی توجہ منعطف ہو گئی۔امام مالک (متوفی ۱۸۹ھ) نے محمد بن شہاب زہری ( متوفی ۱۲۳ھ ) ، یحیی بن سعید انصاری (متوفی ۱۳۳ )، محمد بن منکدر ( متوفی ۱۳۱ھ)، جعفر صادق (متوفی (21)، ہشام بن عروہ (متوفی ۱۵۱ھ ) اور محمد بن بیٹی انصاری (متوفی ۱۵۱ھ ) رحمۃ اللہ علیہم سے جو آپ کے ہم عصر تابعین تھے احادیث اخذ کیں۔خصوصا زہری سے جن کا اکثر حوالہ ان کی مشار الیہ کتاب موطا میں پایا جاتا ہے۔امام بخاری نے بھی اپنی صحیح مسند کو یحی بن سعید انصاری، ہشام بن عروہ اور محمد بن شہاب زہری کی روایتوں سے شروع کیا ہے۔(کتاب بدء الوحی روایت نمبر ۱ ۲ ۳) ان محدثین کے متعلق جو قرن اول کے اواخر اور قرن ثانی کے اول میں تھے اور جو ہر لحاظ سے ثقہ مانے جاتے تھے یہ باور نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے احادیث کے متعلق اپنی طرف سے افتراء کیا ہو۔انہوں نے صحابہ کرام سے بالمشافہ باتیں سنیں اور ایک دوسرے کو پہنچا ئیں اور انہیں محفوظ کیا۔احادیث کے محفوظ ہونے کے اسباب : امام بخاری نے کتاب العلم میں ان چند ایک ضروری اسباب کا ذکر کیا ہے جو احادیث کی صحت اور ان کی حفاظت کا اصل سبب ہوئے۔ان میں سے اول: وہ عاشقانہ تعلق ہے جو صحابہ کرام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔وہ آپ کے قول و فعل پر ہر وقت نظر رکھتے اور آپ کے تمام حرکات وسکنات کی پیروی کرنا اپنی نجات کا باعث یقین کرتے تھے۔(کتاب العلم باب ۲۷۔روایت نمبر ۸۹ ) دوم : صحابہ کرام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے اور یاد کرنے کا انتہائی شوق یہاں تک کہ بھوک پیاس کا بھی خیال نہ رکھتے (کتاب العلم باب ۴۲۔روایت نمبر ۱۱۸) سوم : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کرام کی تعلیم کے متعلق اہتمام رکھنا ( کتاب العلم باب ۳۲۱۲) (هدى السارى مقدمة فتح البارى۔الفصل الأول فى بيان السبب الباعث۔صفحه ۸)