صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page iv
حیح بخاری کا مقام : حضرت محمد بن اسماعیل بخاری (۱۹۴ھ۔۲۵۶ھ ) کا مایہ ناز مجموعه احادیث الجامع الصحيح المسند آپ کی سولہ سال کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔آپ نے اس عرصہ میں ہزاروں میل کا سفر طے کر کے ایسے نیک شہرت اور صاحب کردار لوگوں سے۔۔۔احادیث جمع کیں اور پھر ان میں سے۔۔۔احادیث کا انتخاب فرما کر اپنی کتاب میں انہیں درج فرمایا۔حضرت امام بخاری سے قریبا نوے ہزار شاگردوں نے براہ راست بخاری پڑھی۔ان تلامذہ ތ میں سے امام بخاری سے ان کی صحیح کو روایت کرنے والے چار شاگر دمشہور ہیں۔ا۔ابراہیم بن معقل بن الحجاج النسفی (متوفی ۲۹۴ھ) ۲- حماد بن شاکر النسوی (متوفی ۲۹۰ھ ) محمد بن یوسف الفربری (متوفی ۳۲۰ھ) ۴ منصور بن محمد بن علی البز دوی (متوفی ۳۲۹ھ) ان میں سے محمد بن یوسف فربری کے پاس امام بخاری کے اپنے دست مبارک کا تحریر کردہ نسخہ تھا۔ان کے شاگردوں میں سے چار نے اس نسخہ سے آگے نقول تیار کیں جو اُن کے ناموں مستملی ، مروزی، سرکسی اور شمیینی سے معروف ہوئے۔اس طرح بخاری کے مزید کئی نسخے تیار ہو کر عالم اسلام میں متداول ہوئے۔جن کی تعدا دسترہ یا اٹھارہ بیان کی جاتی ہے۔بخاری کے نسخوں کا تعارف اس لیے بھی ضروری ہے کہ بعض لوگ کسی ایک نسخہ سے ایک لفظ پڑھ کر دیگر نسخوں کو دیکھے بغیر یہ کہہ دیتے ہیں کہ بخاری میں یہ الفاظ نہیں مثلاً ایک نسخہ میں يَضَعُ الْحَرب کے الفاظ ہیں جبکہ دوسرے میں اس جگہ يَضَعُ الْعِزِيَة کے الفاظ ہیں۔( بخاری کتاب الانبیاء- باب نزول عیسی ابن مریم - روایت نمبر ۳۴۴۸) يَضَعُ الْحَرب والے نسخہ کو دیکھے بغیر ایسے لوگ ان الفاظ کا انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حوالہ غلط دیا گیا ہے جبکہ عدم علم سے عدم شئے لازم نہیں۔اس طرح کی بہت سی مثالیں بخاری کے مختلف نسخوں میں پائی جاتی ہیں، جو صاحب علم سے مخفی نہیں۔صحیح بخاری کو اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام میں بہت مقبولیت عطاء فرمائی۔چنانچہ اہل سنت کے نزدیک یہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ قرار پائی اور صحاح ستہ میں اسے پہلے مقام پر رکھا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا ہے:۔مسلمانوں کے لئے صحیح بخاری نہایت متبرک اور مفید کتاب ہے۔ایسا ہی مسلم اور دوسری احادیث کی کتابیں بہت سے معارف اور مسائل کا ذخیرہ اپنے اندر رکھتی ہیں۔ایک اور موقع پر فرمایا:- (کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۶۵) بخاری کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں برکت اور نور ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلی ہیں۔( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲۳۸)