صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xlviii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xlviii

صحيح البخاري ۲۸ دیباچه امام مسلم بن حجاج نے احادیث کے جانچنے کے لئے جرح وقدح تمحیص و تعدیل کی وہ کڑی شرطیں استعمال نہیں کیں جو امام موصوف نے کیں ۔ بلکہ طبقہ ثانیہ و ثالثہ کی بھی تقریباً ساری کی ساری روایتیں قبول کر لیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے راویوں کی فہرست امام موصوف کی فہرست سے تین گنا سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یعنی ایک ہزار چھ سو میں راوی ۔ جن میں سے ایک سو ساٹھ راویوں کے کمزور ہونے کے متعلق محققین نے اعتراض اٹھائے ہیں۔ اس مقابلہ و موازنہ سے بھی امام بخاری کی غایت درجہ احتیاط کا پتہ چلتا ہے۔ جو انہوں نے روایات کے اخذ کرنے میں برتی ہے اور طبقہ اولیٰ اور طبقہ ثانیہ کے جن راویوں سے انہوں نے روایات قبول کی ہیں ان کے ثقہ ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ امام مسلم نے بھی ان سب کو اپنی کتاب میں لیا ہے۔ (مقدمة فتح الباري ۔ الفصل الثاني في بيان موضوعه۔ صفر ۱۴) تاریخ تدوین حدیث: علم حدیث کے متعلق پہلی مستقل اور قابل اعتبار تصنیف امام مالک بن انس 7J رحمۃ اللہ علیہ کی ہے جس کا نام موطا ہے۔ امام موصوف پہلی ہجری کے آخر (۹۵ھ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے تیرہ سوشا گرد تھے۔ جن میں امام ابوحنیفہ، امام شافعی ، امام محمد اور تمام وہ بڑے بڑے علماء ہیں جن سے امام احمد بن حنبل، امام بخاری، امام مسلم، ابوداؤ د طیالسی، ترمذی اور نسائی رحمۃ اللہ علہ ا رحمۃ اللہ علیہم نے حدیث کا درس سبقاً سبقاً لیا۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ۱۸۹ ھ میں فوت ہوئے ۔ المؤطا جو کہ ان کے نام سے مشہور ہے علم حدیث میں بطور ایک تمہید کے تھی۔ جیسا کہ خود اس کا نام ظاہر کرتا ہے۔ اس میں کل ایک ہزار سات سو بیس حدیثیں ہیں ۔ جن میں سے چھ سو معروف، چھ سو تیرہ موقوف اور دو سو پچاسی مرسل ہیں۔ امام بخاری نے علم حدیث کی تاریخ تدوین کا ذکر کتاب العلم باب ۳۴ کے ذیل میں اس طرح کیا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو جن کا زمانہ خلافت (۹۹-۱۰۱ھ) ہے، سب سے پہلے احادیث کے ضبط تحریر میں لانے اور محفوظ کرنے کا فکر ہوا اور انہوں نے اس کے لئے محمد بن شہاب زہری کو چنا جو تابعی اور علمائے مدینہ میں سے چوٹی کے عالم اور فقیہ تھے۔ (اکمال فی اسماء الرجال ) انہوں نے دیکھا کہ صحابہ کرام یکے بعد دیگرے رخصت ہو رہے ہیں (آخری صحابی جیسا کہ روایت نمبر ۱ ۶۰ کی شرح میں بتلایا گیا ہے ناھ میں فوت ہوئے ) اور ایسا نہ ہو کہ خود غرض جاہل لوگ اپنی طرف سے غلط مسائل بنا کر لوگوں کو گمراہ کر دیں جس سے آہستہ آہستہ احادیث کا نام و نشان باقی نہ رہے ( کتاب العلم باب (۳۴) اس وقت احادیث کے درس و تدریس اور سننے سنانے کا دار و مدار چند ایک متفرق قلمی نسخوں اور زیادہ تر زبانی روایات پر تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خوف پیدا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ خاندان بنی امیہ کے دشمنوں نے مخفی سوسائیٹیاں قائم کر کے اپنے نمائندے مختلف جگہوں میں بھیجے۔ جنہوں نے سیاسی اغراض کی خاطر روایتوں میں تصرف کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جس میں احادیث کے مخدوش ہونے کا خطرہ پیدا ہوا اور معاً اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی تدوین و حفاظت کی تحریک پیدا کر دی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری صدی کے نصف تک کئی کتابیں تابعین کی روایات اور ان کے نوشتوں کی بناء پر احادیث کے متعلق لکھی گئیں ۔ ابتداء میں سندوں کا حوالہ دیا جانا ضروری نہیں سمجھا گیا جو ایک طبعی امر تھا۔ کیونکہ صحابہ اور تابعین ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔ جیسا کہ ہمارے