صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xlviii
صحيح البخارى ۲۸ دیباچه امام مسلم بن حجاج " نے احادیث کے جانچنے کے لئے جرح وقدح، تمحیص و تعدیل کی وہ کڑی شرطیں استعمال نہیں کیں جو امام موصوف نے کیں۔بلکہ طبقہ ثانیہ و ثالثہ کی بھی تقریباً ساری کی ساری روایتیں قبول کر لیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے راویوں کی فہرست امام موصوف کی فہرست سے تین گنا سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔یعنی ایک ہزار چھ سو بیس راوی۔جن میں سے ایک سو ساٹھ راویوں کے کمزور ہونے کے متعلق محققین نے اعتراض اٹھائے ہیں۔اس مقابلہ وموازنہ سے بھی امام بخاری کی غایت درجہ احتیاط کا پتہ چلتا ہے۔جو انہوں نے روایات کے اخذ کرنے میں برتی ہے اور طبقہ اولیٰ اور طبقہ ثانیہ کے جن راویوں سے انہوں نے روایات قبول کی ہیں ان کے ثقہ ہونے میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا۔امام مسلم نے بھی ان سب کو اپنی کتاب میں لیا ہے۔(مقدمة فتح الباری۔الفصل الثاني في بيان موضوعه۔عني۱۳) علم حدیث کے متعلق پہلی مستقل اور قابل اعتبار تصنیف امام مالک بن انس تاریخ تدوین حدیث رحمتہ اللہ علیہ کی ہے جس کا نام موطا ہے۔امام موصوف پہلی ہجری کے آخر (292) میں پیدا ہوئے۔ان کے تیرہ سوشاگرد تھے۔جن میں امام ابو حنیفہ، امام شافعی ، امام محمد اور تمام وہ بڑے بڑے علماء ہیں جن سے امام احمد بن حنبل ، امام بخاری، امام مسلم، ابوداؤد طیالسی، ترندی اور نسائی رحمۃ اللہ علیم نے حدیث کا درس سبقاً سبقاً لیا۔امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ۱۸۹ ھ میں فوت ہوئے۔المؤطا جو کہ ان کے نام سے مشہور ہے علم حدیث میں بطور ایک تمہید کے تھی۔جیسا کہ خود اس کا نام ظاہر کرتا ہے۔اس میں کل ایک ہزار سات سو میں حدیثیں ہیں۔جن میں سے چھ سو معروف، چھ سو تیرہ موقوف اور دوسو پچاسی مرسل ہیں۔امام بخاری نے علم حدیث کی تاریخ تدوین کا ذکر کتاب العلم باب ۳۴ کے ذیل میں اس طرح کیا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کو جن کا زمانہ خلافت (۹۹-۱۰۱ھ ) ہے، سب سے پہلے احادیث کے ضبط تحریر میں لانے اور محفوظ کرنے کا فکر ہوا اور انہوں نے اس کے لئے محمد بن شہاب زہری کو چنا جو تا بعی اور علمائے مدینہ میں سے چوٹی کے عالم اور فقیہ تھے۔(اکمال فی اسماء الرجال ) انہوں نے دیکھا کہ صحابہ کرام یکے بعد دیگرے رخصت ہو رہے ہیں ( آخری صحابی جیسا کہ روایت نمبر ۶۰ کی شرح میں بتلایا گیا ہے شاھ میں فوت ہوئے ) اور الیسا نہ ہو کہ خود غرض جاہل لوگ اپنی طرف سے غلط مسائل بنا کر لوگوں کو گمراہ کر دیں جس سے آہستہ آہستہ احادیث کا نام و نشان باقی نہ رہے ( کتاب العلم باب (۳۴) اس وقت احادیث کے درس و تدریس اور سننے سنانے کا دارو مدار چند ایک متفرق قلمی نسخوں اور زیادہ تر زبانی روایات پر تھا۔حضرت عمر بن عبد العزیز کو خوف پیدا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ خاندان بنی امیہ کے دشمنوں نے مخفی سوسائیٹیاں قائم کر کے اپنے نمائندے مختلف جگہوں میں بھیجے۔جنہوں نے سیاسی اغراض کی خاطر روایتوں میں تصرف کرنا شروع کر دیا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جس میں احادیث کے مخدوش ہونے کا خطرہ پیدا ہوا اور معاً اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی تدوین و حفاظت کی تحریک پیدا کر دی۔نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری صدی کے نصف تک کئی کتابیں تابعین کی روایات اور ان کے نوشتوں کی بناء پر احادیث کے متعلق لکھی گئیں۔ابتداء میں سندوں کا حوالہ دیا جانا ضروری نہیں سمجھا گیا جو ایک طبعی امر تھا۔کیونکہ صحابہ اور تابعین ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔جیسا کہ ہمارے