صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 415
صحيح البخاری جلد ) ۴۱۵ - كتاب الحيض تشریح : كَيْفَ تُهِلُ الْحَائِضُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ : عنوان باب سے مراد احرام باندھنے کی خاص کیفیت کا بیان کرنا نہیں بلکہ صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ حائضہ حج اور عمرہ کا احرام باندھ سکتی ہے اور اس کا حج بھی ہو سکتا ہے اور عمرہ بھی اور یہ کہ وہ حج کو عمرہ پر مقدم کرے اور اگر موقع ملے تو عمرہ بھی کرلے۔اس باب کا تعلق سابقہ بابوں سے ہے۔اس میں جو روایت لائی گئی ہے اس کے الفاظ فَلَمْ اَزَلُ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ حالتِ طہر کی تعیین کر کے اعتراض کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔یہاں حج وغیرہ کے مسائل بیان کرنا مقصود نہیں۔ان کا ذکر آگے آئے گا۔باب ۱۹ : إِقْبَالُ الْمَحِيْضِ وَإِدْبَارُهُ حیض کا آنا اور جانا وَكُنَّ نِسَاء يَبْعَثْنَ إِلَى عَائِشَةَ بِالدُّرَجَةِ اور عورتیں حضرت عائشہ کے پاس ڈبیا بھیجتیں اس فِيْهَا الْكُرْسُفُ فِيْهِ الصُّفْرَةُ فَتَقُولُ لَا میں روئی ہوتی۔جس میں زردی ہوتی تو وہ کہتیں کہ تَعْجَلْنَ حَتَّى تَرَيْنَ الْقَصَّةَ الْبَيْضَاءَ جلدی مت کرو یہاں تک کہ سفید روئی دیکھو۔اس تُرِيْدُ بِذَلِكَ الطَّهْرَ مِنَ الْحَيْضَةِ وَبَلَغَ سے مقصد حیض سے پاک ہونا تھا اور حضرت زید بن بِنْتَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ نِسَاء يَدْعُونَ ثابت کی بیٹی کو اطلاع پہنچی کہ عورتیں رات کے وقت بِالْمَصَابِيْحِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَنْظُرْنَ چراغ منگواتیں، طہر کو دیکھتیں ہیں تو انہوں نے کہا إِلَى الظَّهْرِ فَقَالَتْ مَا كَانَ النِّسَاءُ کہ وہ عورتیں ایسا نہیں کیا کرتی تھیں اور اس نے ان يَصْنَعْنَ هَذَا وَعَابَتْ عَلَيْهِنَّ۔کی یہ بات معیوب سمجھی۔۳۲۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۲۰ ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ سفیان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ہشام سے، ہشام أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي نے اپنے باپ عروہ) سے،ان کے باپ نے حُبَيْشِ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَسَأَلَتِ حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ ابو حیش کی بیٹی فاطمہ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کو خون استحاضہ آیا کرتا تھا تو اس نے نبی ﷺ سے ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا پوچھا۔آپ نے فرمایا: یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے۔أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا حیض نہیں۔پس جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور