صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 413 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 413

صحيح البخاری جلد ) ۱۳ ٦ - كتاب الحيض آپس میں تعلق ہے۔یہاں یہی طرز اختیار کی ہے۔اس درمیانی باب کا تعلق اس اعتبار سے بالکل ظاہر ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے استدلال پر جو اعتراض کیا جا سکتا تھا اس کا جواب انہوں نے اصولی طور پر دیا ہے۔بحالتِ جنینِ غَيْرِ مُخَلَّقَةٍ یعنی حمل کی ابتدائی حالت میں بھی حیض کا آنا اور جلدی رُک جانا ممکن ہے۔یہی روایت باب ۷ ( نمبر ۳۰۵) میں گذر چکی ہے۔اس میں یوں ہے کہ مجھے خون آیا۔وانا ابكي۔۔۔الخ۔اور میں رورہی تھی اور میں نے آرزو کی کہ میں حج میں اس سال نہ آئی ہوتی۔آپ نے فرمایا: لَعَلَّک نُفست۔۔۔۔شاید تمہیں خون آگیا ہے۔نفاس وہ خون جو وضعگی کے وقت عورت کو آتا ہے۔بطور نیک فال کے خون حیض کو بھی نفاس کہتے ہیں۔( باب ۲ روایت نمبر ۲۹۸) لَعَلَّكِ نُفِسَتِ یعنی امید کی جاتی ہے کہ یہ خون نفاس ہو گا جو بعض وقت حاملہ کو بھی آتا ہے۔عربی زبان میں نُفَسَاءُ جننے والی کو اور مجاز حاملہ کو بھی کہتے ہیں۔چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسی وجہ سے وہاں باب کا عنوان ان الفاظ سے قائم کیا ہے الْأَمْرُ بِالنُّفَسَاءِ إِذَا نُفِسنَ نفاس کا لفظ على الاطلاق اختیار کیا ہے۔حضرت عائشہ خون دیکھ کر رونے لگیں۔روایت ۳۱۶ کے الفاظ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا حَاضَتْ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کو تر در تھا کہ یہ حیض کا خون ہے۔ہر امید وار عورت کو حیض آنے پر صدمہ ہوتا ہے۔ان روایتوں کو یکجا دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کو دو وجہ سے تکلیف ہوئی۔ایک ایام اُمید میں حیض آنے پر اور دوسرے حج کے ضائع ہونے پر۔کم از کم امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کا یہی خیال ہے کہ وہ حاملہ تھیں اور خون کا آنا اور جلدی بند ہو جانا غیر طبعی نہ تھا۔گو ہمیں پھر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ بعد میں حضرت عائشہ کے ہاں ولادت ہوئی یا اسقاط ہوا تھا۔تاریخ اسلامی میں ایسی روایتیں یقینا پائی جاتی ہیں کہ حضرت عائشہ حاملہ ہوئیں اور پھر اسقاط ہوا۔(الاصابة۔كتاب النساء۔ذكر عائشة) (المواهب اللدنيه۔الفصل الثالث فى ذكر أزواجه۔عائشة۔الجزء الرابع۔صفحه ۳۹۲) غرض امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ سے صرف اس قدر بتلانا چاہتے ہیں کہ ایام حیض کا کم و بیش ہونا ایک قدرتی بات ہے۔پس اگر یہ ثابت بھی ہو جائے کہ ایام حج میں ہی ان کو حیض شروع ہوا تھا تو اس کا جلدی بند ہو جانا بھی قانونِ قدرت اور عام مشاہدہ کے خلاف نہیں۔مگر جیسا کہ اس سفر کی تاریخ سے ابھی بتلایا جا چکا ہے کہ مکہ معظمہ آپ چار یا پانچ تاریخ کو پہنچے اور سرف پر حضرت عائشہ کو شکایت ہوئی۔یعنی تین یا چار تاریخ کو اور نو تاریخ کو عرفہ کے دن وہ نہا ئیں۔اس لیے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کا استدلال بہر صورت صحیح ہے کہ یہ غسل حیض تھا اور امام ابن حجر کی توجیح دور کا قیاس ہے۔باب ۱۸: كَيْفَ تُهِلُّ الْحَائِضُ بِالْحَجَ وَالْعُمْرَةِ حائضہ حج اور عمرہ کا احرام کیونکر باندھے ۳۱۹: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ ۳۱۹ ہم سے سجی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابن