صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 412 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 412

صحيح البخاری جلد ا ٦ - كتاب الحيض کہ وہ نسل حیض تھا۔امام ابن حجر کا خیال ہے کہ امام بخاری نے یوں استدلال کیا ہے کہ جب غسل احرام میں جو کہ واجب نہیں؛ سرکھولنے کا حکم دیا تو غسل حیض میں جو کہ واجب ہے سرکھولنا بدرجہ اولی ضروری ہے۔(فتح الباری جلد اول صفحه ۵۴۱) پہلی روایت ( نمبر ۳۱۶) کے الفاظ (وَلَمْ تَطْهُرْ حَتَّى دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ) سے معلوم ہوتا ہے کہ عرفہ کی رات تک حضرت عائشہ نے حیض سے فراغت نہیں پائی تھی اور وہ حیض کا آخری دن معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ آٹھویں تاریخ منا کو جاتے ہیں اور نویں تاریخ عرفہ کو۔مکہ معظمہ داخل ہونے سے پہلے حیض شروع ہوا تو قرین قیاس یہی معلوم ہوتا ہے کہ عرفہ کی رات انتہائی حد ہے۔جیسا کہ زہری کی روایت ( نمبر ۳۱۹) سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں: فَلَمُ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ - مجاہد کے نزدیک بھی حیض کا آخری دن یہی تھا اور انہوں نے بجائے طَهُرَتْ کے تَطَهَّرَتْ کہا ہے۔یعنی اس دن وہ غسل حیض سے پورے طور پر پاک ہوئیں۔(زادا پاک ہوئیں۔(زاد المعاد۔تحت ذكر حجة الوداع۔بحث عمرة عائشة من التنعيم بعد الحج۔فصل موضع حيضها و موضع طهرها الجزء الاول صفحه ۲۸۱) روایت نمبر ۳۱۹ کے الفاظ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ الله فِي حَجَّةِ الْوَدَاع اور روایت نمبر ۳۱۷ کے الفاظ خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهَلَالِ ذِي الْحِجَّةِ سے یہ وہم پیدا ہو سکتا تھا کہ آپ ذوالحجہ میں مدینہ سے نکلے تھے اور کم از کم آٹھ دن کا راستہ تھا تو آپ یوم عرفہ یعنی ۸ یا ۹ تاریخ تک مکہ مکرمہ پہنچے ہوں گے۔پس اگر سرف میں حیض آیا ہو جو مکہ مکرمہ سے دس میل کے فاصلہ پر ہے جسے ایک دن میں بآسانی طے کیا جا سکتا ہے۔اگر ۸، ۹ تاریخ آپ مکہ مکرمہ میں پہنچے ہوں تو ے یا ۸ تاریخ کو حضرت عائشہ کو حیض آیا ہو گا۔اس لیے ایک دو دن پہلے حیض شروع ہو کر اس کا معا دو دن کے اندر بند ہو جانا عام عادتِ حیض کے مخالف ہے۔اس اعتراض کا ایک جواب تو یہ ہے کہ خَرَجْنَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ کے یہ معانی ہیں کہ حجتہ الوادع کے لیے نکلے۔فٹ بمعنے لا جُلٍ ہے۔یعنی خاطر۔اور خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهَلَالِ ذِي الْحِجَّةِ کے یہ معنے ہیں کہ ذوالحج کے قریب نکلے۔دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے: لِخَمْسِ بَقِینَ مِنْ ذِی الْقَعْدَةِ۔۔الخ۔یعنی پانچ دن باقی رہتے تھے، جب آپ مدینہ سے نکلے اور راستے میں آٹھ ، نو دن ٹھہرے۔(عمدۃ القاری جزء ۳ صفحه ۲۹۰۔۲۹۱) تو اس حساب سے آپ چوتھی تاریخ مکہ میں پہنچے ہیں اور حیض اس سے پہلے آیا تھا۔صحت کی حالت اگر اچھی ہو تو چار پانچ دن میں حیض کا دورہ ختم ہو جاتا ہے۔دوسرا جواب امام بخاری نے اگلے باب میں خود دیا ہے۔آیت مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ ( الحج : ٢ ) اور روایت متعلقہ ۳۱۸ بحث مذکورہ بالا کے درمیان ضمن لا کر اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جمیل کی حالت میں بھی کبھی حیض آتا ہے۔جس کی مدت ایک دو دن بھی ہو سکتی ہے۔یہ امر کہ باب مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ کا تعلق اسی مضمون کے ساتھ ہے، اس سے واضح ہے کہ اس باب کے بعد پھر وہی حضرت عائشہ کی روایت دہرائی ہے اور اس سے سیہ ثابت ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ بعض دفعہ ایک ایسا باب قائم کر دیتے ہیں جس کا بظاہر پہلے باب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر تیسرے باب میں وہی مضمون ہوتا ہے جو پہلے کا۔اس تکرار سے وہ بتلانا چاہتے ہیں کہ ان تینوں بابوں کا حمد المواهب اللدنيه۔تحت ذكر حجة الوداع۔الجزء الرابع۔صفحه ۱۴۴-۱۳۵) (زاد المعاد تحت فصل ولما عزم رسول الله له على الحج۔الجزء الثاني۔صفحه ۲۰۰-۲۰۲) صلى الله