صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 412
صحيح البخاری جلد | ۴۱۲ ٢ - كتاب الحيض کہ وہ نسل حیض تھا۔ امام ابن حجر کا خیال ہے کہ امام بخاری نے یوں استدلال ہے کہ امام بخاری نے یوں استدلال کیا ہے کہ جب غسل احرام میں جو کہ واجب نہیں، سر کھولنے کا حکم دیا تو غسل حیض میں جو کہ واجب ہے سر کھولنا بدرجہ ا ہے سر کھولنا بدرجہ اولی ضروری ہے۔ ( فتح الباری جلد اول صفحہ (۵۴) پہلی روایت (نمبر ۳۱۶) کے الفاظ (وَلَمْ تَطْهُرُ حَتَّى دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ) سے معلوم ہوتا ہے کہ عرفہ کی رات تک حضرت عائشہ نے حیض سے فراغت نہیں پائی تھی اور وہ حیض کا آخری دن معلوم ہوتا ہے ۔ کیونکہ آٹھویں تاریخ منا کو جاتے ہیں اور نویں تاریخ عرفہ کو ۔ مکہ معظمہ داخل ہونے سے پہلے حیض شروع ہوا تو قرین قیاس یہی معلوم ہوتا ہے کہ عرفہ کی رات انتہائی حد ہے۔ جیسا کہ زہری کی روایت ( نمبر ۳۱۹) سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں: فَلَمُ اَزَل حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ - مجاہد کے نزدیک بھی حیض کا آخری دن یہی تھا اور انہوں نے بجائے طَهُرَتْ کے تَطَهَّرَتْ کہا ہے۔ یعنی اس دن وہ غسل حیض سے ! ں سے پورے طور پر پاک ہوئیں ۔ (زاد المعاد تحت ذكر حجة الوداع داع۔ بحث عمرة عائشة من التنعيم بعد الحج ۔ فصل موضع حيضها و موضع طهرها ۔ الجزء الاول صفحه ۲۸۱) روایت نمبر ۳۱۹ کے الفاظ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ الله فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ اور روایت نمبر ۳۱۷ کے الفاظ خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلَالٍ ذِي الْحِجَّةِ سے یہ و ہم پیدا ہو سکتا تھا کہ آپ ذو الحجہ میں مدینہ سے نکلے تھے اور کم از کم آٹھ دن کا راستہ تھا تو آپ یوم عرفہ یعنی ۸ یا ۹ تاریخ تک مکہ مکرمہ پہنچے ہوں ۔ رمہ پہنچے ہوں گے۔ پس اگر صرف میں حیض آیا ہو جو مکہ مکرمہ سے دس میل کے فاصلہ پر ہے جسے ایک دن میں بآسانی طے کیا جا سکتا ہے۔ اگر ۸، ۹ تاریخ آپ مکہ مکرمہ میں پہنچے ہوں تو ے یا ۸ تاریخ کو حضرت عائشہ کو حیض آیا ہوگا۔ اس لیے ایک دو دن پہلے حیض شروع ہو کر اس کا معا دو دن کے اندر بند ہو جانا عام عادت حیض کے مخالف ہے۔ اس اعتراض کا ایک جواب تو یہ ہے کہ خَرَجْنَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ کے یہ معانی ہیں کہ حجۃ الوادع کے لیے نکلے۔ فی بمعنے لاجل ہے۔ یعنی خاطر ۔ اور خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهَلَالِ ذِي الْحِجَّةِ کے یہ معنی ہیں کہ ذوالحج کے قریب نکلے۔ دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے : لِخَمْسِ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ ۔۔۔ الخ ۔ یعنی پانچ دن باقی رہتے تھے، جب آپ مدینہ سے نکلے اور راستے میں آٹھ ، نو دن ٹھہرے۔ (عمدۃ القاری جزء ۳ صفحه ۲۹۱۲۹۰) تو اس حساب سے آپ چوتھی ۔ پ چوتھی تاریخ مکہ میں پہنچے ہیں اور حیض اس سے پہلے آیا تھا۔ صحت کی حالت اگر اچھی ہو تو چار پانچ دن میں حیض کا دورہ ختم ہو جاتا ہے۔ دوسرا جواب امام بخاری نے اگلے باب میں خود دیا ہے۔ آیت مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ (الحج (۶) اور روایت متعلقہ ۳۱۸ بحث مذکورہ بالا کے درمیان ضمنا لا کر اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ حمل کی حالت میں بھی کبھی حیض آتا ہے۔ جس کی مدت ایک دو دن بھی ہو سکتی ہے۔ یہ امر کہ باب مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ کا تعلق اسی مضمون کے ساتھ ہے، اس سے واضح ہے کہ اس باب کے بعد پھر وہی حضرت عائشہ کی روایت دُہرائی ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بعض دفعہ ایک ایسا باب قائم کر دیتے ہیں جس کا بظاہر پہلے باب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر تیسرے باب میں وہی مضمون : وہی مضمون ہوتا ہے جو پہلے کا۔ اس تکرار سے وہ بتلانا چاہتے ہیں کہ ان تینوں بابوں کا المواهب اللدنيه ۔ تحت ذكر حجة الوداع ۔ الجزء الرابع۔ صفحه ۱۴۴-۱۴۵) ( زاد المعاد۔ تحت فصل ولما عزم رسول الله الله على الحج۔ الجزء الثاني۔ صفحه ۲۰۰-۲۰۲)