صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 411 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 411

صحيح البخاری جلد ) ۱۱ ٦ - كتاب الحيض بَاب ۱۷ : { قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ } مُخَلَّقَةٍ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ اللہ عزوجل کا فرمانا: جسے خاص تخلیقی عمل یا عام تخلیقی عمل سے بنایا گیا (الحج: ٦) ۳۱۸ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۳۱۸ ہم سے مسد دنے بیان کیا، کہا: حماد نے ہمیں حَمَّادٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ بتلایا۔انہوں نے عبید اللہ بن ابی بکر سے، عبید اللہ نے أَنَسِ بْنِ مَالِكِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت انس بن مالک سے حضرت انس نے نبی صلی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الله علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا يَقُوْلُ يَا رَبِّ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے جو کہتا ہے: اے رب نُطْفَةٌ يَا رَبِّ عَلَقَةٌ يَا رَبِّ مُضْغَةٌ (اب یہ ) نطفہ ہے۔اے رب علقہ ہے۔اے رب مضغه ہے۔پس جب ( اللہ تعالیٰ ) ارادہ کر لیتا ہے کہ اس فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهُ قَالَ کی پیدائش کو مکمل کرے تو فرشتہ کہتا ہے: کیا نر ہو یا مادہ۔أَذَكَرُ أَمْ أُنْثَى شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا بدبخت ہو یا نیک بخت۔اور اس کی روزی کیا ہوگی اور الرِّزْقُ وَمَا الْأَجَلُ فَيُكْتَبُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ مہات کتنی۔تو یہ سب کچھ اسی وقت لکھ دیا جاتا ہے کہ وہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے۔اطرافه: ٣٣٣٣، ٦٥٩٥۔تشریح: بعض نے باب ۱۵-۱۶ کے متعلق یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو جو حکم دیا تھا تو وہ احرام کھولنے کی وجہ سے دیا تھا نہ کہ فغسل حیض کی وجہ سے، کیونکہ اس وقت تک وہ حائضہ تھیں۔ان کے نزدیک امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت سے صحیح استدلال نہیں کیا۔امام ابن حجر نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ حضرت عائشہ نے تمتع کی نیت کی ہوئی تھی یعنی عمرہ اور حج کی۔سرف مقام پر اُن کو حیض آگیا تھا، اس لیے عمرہ نہ کر سکیں یہاں تک کہ حج کا وقت آ گیا۔دوسری روایت کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ یوم عرفہ تک وہ حائضہ تھیں، اس لئے انھوں نے شکایت کی کہ حج کا وقت آگیا ہے۔آپ نے فرمایا: دَعِی عُمر تک یعنی عمرہ رہنے دو اور سرکھول دو اور کنگھی کرلو اور حج کا احرام باندھ لو۔حج کا احرام باندھتے وقت نہانا بھی آداب احرام میں سے ایک مسنون ادب ہے۔مسلم نے بھی یہی واقعہ نقل کیا ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں: فَاغْتَسِلِى ثُمَّ اهلِى بِالْحَجِّ۔(مسلم کتاب الحج باب بيان وجوه الأحرام: ۲۱۲۷) گویا امام بخاری نے عنوان باب میں اپنی عادت کے مطابق اس روایت کے الفاظ کی طرف اشارہ کر کے بتلایا ہے الفاظ قَوْلُ اللهِ عَزَّوَجَلَّ ، فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۵۴۲)