صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 410
صحيح البخاری جلد ) ۴۱۰ ٦ - كتاب الحيض گفتگه رَأْسَكِ وَامْتَشِطِيْ وَأَهْلِي بِحَجّ في صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا: فَفَعَلْتُ حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ اپنا عمرہ چھوڑ دوا ردو اور اپنا دو اسر کھول دو اور سبھی کر لو اور حج أَرْسَلَ مَعِي أَخِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ کا احرام باندھو ۔ چنانچہ میں نے (ایسا ہی ) کیا۔ آخر أَبِي بَكْرٍ فَخَرَجْتُ إِلَى التَّنْعِيمِ جب حصبہ کی رات ہوئی تو آپ نے میرے ساتھ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِي قَالَ میرے بھائی عبد الرحمن بن ابی بکر کو بھیجا اور میں تقسیم کو گئی اور اپنے عمرہ کے عوض میں دوسرے عمرہ کا احرام هِشَامٌ وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِّنْ ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَوْمٌ وَلَا صَدَقَةٌ۔ باندھا۔ ہشام نے کہا: ان میں سے کسی چیز میں بھی قربانی نہیں اور نہ روزہ اور نہ صدقہ ۔ اطرافه ۲۹٤، 3۰۵، 316، 319، ۳۲۸، 1516، 1518، 1556، 1560، 1561، ،١٧٦، ١٧٧١۲ ، ۱۷۵۷ ، ۱۷۳۳ ، ۱۷۲۰ ، ۱۷۰۹ ، ۱۹۵۰ ، ۱١٥٦٢ ، ٦٣٨ ،٤٣٩، ٤٤٠١۵ ،۲۹۸۴ ، ۲۹۵۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ٤٤٠٨ ، ٥٣٢٩، ٥٥٤٨، ٥٥٥٩، ٦١٥٧، ٧٢٢٩۔ تشريح : نَقُضُ الْمَرْأَةِ شَعَرَهَا: سابقہ بابوں میں چونکہ مسلحیض کی کیفیت کا سوال تھا اس لئے باب نمبر ر ۱۵ و ۱۶ میں نہانے کے وقت بال کھولنے اور کنگھی کرنے کا ذکر ضمنا لے آئے ہیں۔ اور امام موصوف ؟ نے ان بابوں کی ترتیب میں ایک تصرف کیا ہے ۔ دونوں بابوں کی روایتیں ایک ہی واقعہ کے متعلق ہیں اور دونوں میں ارشاد نبوی کے یہ الفاظ ہیں : انْقُضِی رَاسَكِ وَامْتَشِطِی یعنی سر کھولو اور بھی کرو۔ مگر باب قائم کرتے ہوئے پہلے کنگھی کرنے کا عنوان قائم کیا ہے اور اس کے بعد دوسرے کے بعد دوسرے باب میں سر کھولنے کا۔حالانکہ طبعی ترتیب یہ چاہتی تھی کہ پہلے کا اور پھر کنگھی کرنے کا باب باندھا جاتا۔ علاوہ ازیں جب کنگھی کے لنھی کرنے کا باب قائم کیا تھا تو پھر بال کھولنے سرکھولنے کا ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ امام بخاری نے طبعی ترتیب بدل کر بال کھولنے کا الگ باب اس اختلاف کی وجہ سے قائم کیا ہے جو حضرت ام سلمہ کی روایت کی بناء پر جو کی بناء پر بعض علماء کے درمیان ہوا ہے۔ حضرت ام سلمہ اپنے بالوں کی مینڈھیاں گوندھا کرتی تھیں ۔ غسل جنابت میں انحضرت آ ﷺ علی نے ان کو اجازت دی کہ بغیر کھولنے کے سر دھو دھو لیا لیا کریں۔ کریں۔ ایسا ایسا ہی مسلم کی ایک اور روایت میں غسل حیض و جنابت دونوں کے لئے اس اجازت کا ذکر ہے۔ (مسلم، كتاب الحيض۔ باب حكم ضَفَائِرِ المغتسلة) اس بناء پر بعض علماء نسل حیض میں سر کے بال کھول کر دھونا ضروری نہیں سمجھتے مگر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ صلى الله الْقُضِي رَاسَكِ وَامْتَشِطِی کے صریح حکم سے اس کے وجوب کا استدلال کرتے ہیں ۔