صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xlvii
صحيح البخارى ۲۷ دیباچه نقد و تعدیل میں امام موصوف کی ممتاز حیثیت: غرض ناقدین حدیث نے مختلف اعتبارات سے احادیث کی صحت و سقم کو جانچا اور پرکھا ہے۔یہاں تک کہ صحابی کی تعریف میں بھی صرف اس بات پر اکتفاء نہیں کیا گیا کہ کوئی شخص مسلمان ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا۔بلکہ روایت قبول کرنے کے لئے ان کے نزدیک ضروری ہے کہ وہ صحابی کچھ عرصہ آپ کی صحبت میں بھی رہا ہو۔امام محمد بن اسماعیل بخاری احادیث کے اس مجموعہ کے تیار کرنے میں ہر اُس خدشہ اور احتیاط کو بروئے کارلائے ہیں جس سے اس میں کسی قسم کا نقص پیدا ہو سکتا تھا اور جس کی طرف مذکورہ بالا اصطلاحیں ہمیں متوجہ کرتی ہیں اور قارئین پر اس شرح کے مطالعہ سے واضح ہو جائے گا کہ جو حدیث بھی کسی پہلو سے مخدوش ہے اور دوسرے محدثین نے اسے قبول کیا ہے۔امام موصوف نے صراحتا یا اشارہ و کنایہ سے اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔بلکہ بعض اوقات جس قدر تدلیس واقع ہوئی ہے اس کے متعلق بھی آگاہ کر دیا ہے۔(مثال کے لئے دیکھئے کتاب الوضوء - باب ۷۰: البزاق والمخاط ونحوه في الثوب ) اور معمولی سے معمولی شبہ پر بھی ایسی روایتوں کو ر ڈ کر دیا ہے جو دوسرے محدثین کے نزدیک مستند قرار دی گئی تھیں اور کسی روایت کو کبھی قبول نہیں کیا تا وقتیکہ دوسرے مستند مصادر سے اس کی تصدیق نہ ہو گئی ہو۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہایت وثوق سے اپنی اس کتاب کا نام ” جامع مسند صحیح رکھا ہے اور جب اسے اپنے ہم عصر محدثین بلکہ اساتذہ علی ابن المدینی، امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین وغیرہ کے سامنے پیش کیا تو ان سب کو لا محالہ اعتراف کرنا پڑا کہ احادیث میں ان کی یہ تالیف اصح الکتب ہے سوائے چار روایتوں کے جن پر انہیں کچھ اعتراض پیدا ہوا۔مگر ابو جعفر العقیلی کہتے ہیں کہ ان چار روایتوں سے متعلق بھی امام موصوف کی نظر ثاقب نے غلطی نہیں کی۔(هدى السارى مقدمة فتح البارى ذكر فضائل الجامع الصحيح، صفر ۶۸۴) انہوں نے احادیث کی صحت و سقم معلوم کرنے کے لئے جو مستحکم اصول اپنے سامنے رکھے ہیں، ان کی کسوٹی پر پوری محنت و جانفشانی اور پوری دیانتداری سے احادیث کو پرکھا اور جانچا ہے۔ان سے پہلے امام احمد بن حنبل نے سات لاکھ روایتوں سے کانٹ چھانٹ کر تمیں چالیس ہزار حدیثیں علیحدہ کر کے اپنی مسند تیار کی تھی۔یہ امام محمد بن اسماعیل بخاری اور امام مسلم بن حجاج دونوں کے استاد تھے اور گوانہوں نے چالیس برس تک درس حدیث دیا اور سینکڑوں ان کے شاگرد تھے۔مگر ان کے پیش نظر وہ اصول نہ تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے شاگرد کے دل میں ڈالے اور نہ انہیں چسپاں کرنے میں وہ ذرائع میسر آئے جو امام بخاری" کو حاصل ہوئے اس لئے وہ تمام متقدمین پر ہر پہلو سے سبقت لے گئے اور سب کو ان کی اس فضیلت اور سبقت کا لا محالہ اقرار کرنا پڑا۔امام موصوف نے اپنے ہم عصروں نیز مابعد کے محدثین کے لئے راستہ صاف کر دیا اور ان میں سے ہر ایک نے ان کی جامع صحیح سے استفادہ کیا ہے۔حاکم ابواحمد اور حافظ ابوالحسن الدار قطنی اور امام نووی کہتے ہیں کہ اگر امام محمد بن اسماعیل نہ ہوتے تو امام مسلم بن حجاج کے لئے کوئی راہ نہ تھی۔(دیکھئے ھدی الساری مـقـدمـة فتح البارى۔ذكر فضائل الجامع الصحیح صفحه ۶۸۴) اور یہ کہ ان کی تصنیف کے بے نظیر ہونے کا خود امام مسلم " کو بھی اقرار تھا۔(عمدة القاري۔فوائد تتعلق بصحيح البخارى۔فائدة الثانية۔جزء اول صفحه ۵ )