صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xlvi
صحيح البخارى ۲۶ دیباچه کی ہو بہواتباع کرتے تھے۔باب ۴۴ قائم کرنے سے امام موصوف یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت و تربیت کے ماتحت ہمہ دانی کا دعوئی نہ تھا اور یہ کہ جہاں کہیں انہیں کسی بات کا علم نہ ہوتا یا کسی امر کے متعلق شبہ ہوتا تو وہ اپنی لاعلمی کے شبہ کا اظہار کر دیتے تھے۔محولہ بالا باب میں جو ایک لمبی روایت نقل کی گئی ہے اس کے بیان کرنے والوں کے الفاظ میں ضرور اختلاف ہے۔مگر یہ اختلاف ایسا نہیں جو معانی میں بہت بڑا فرق ڈالنے والا ہو۔ایک راوی نے کہا: آئی النَّاسِ اَعْلَمُ ( روایت نمبر ۱۲۲) اور دوسرے نے کہا: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنكَ ( روایت نمبر ۷۴ ) یہ دونوں جملے تقریباً ہم معنی ہیں۔اس قسم کے لفظی اختلاف کا واقع ہونا ممکن ہے۔مگر نوف بکالی والا اختلاف (مذکورہ روایت نمبر ۱۲۲) جو بالکل ایک متضاد مفہوم پیدا کر دیتا ہے، صحابہ کرام کی روایتوں میں شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔جہاں اس قسم کا اختلاف پیدا ہوا ، وہ اپنے زمانہ میں ہی ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال کر کے الفاظ کو ضبط میں لے آئے اور اس طرح اس اختلاف کو دور کر لیا۔امام بخاری نے اس بحث کے دوران باب ۴۰ ۴۱ قائم کر کے الفاظ کی صحت وضبط کے متعلق تین روایتیں ( نمبر ۱۱۵ تا ۱۱۷) بطور مثال کے پیش کی ہیں۔ایک روایت کے الفاظ اور معانی دونوں از خود دلالت کرتے ہیں کہ وہ کلمات طیبہ سر چشمہ نبوت سے صادر شدہ ہیں۔دوسری روایت میں ایک پیشگوئی کا ذکر ہے جو پوری صحت کے ساتھ وقوع میں آئی اور اس کا وقوع میں آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں اور یہ کہ صحابہ نے انہیں ضبط کے ساتھ نقل کیا۔تیسری روایت اس بات کے ثبوت میں پیش کی گئی ہے کہ راوی کو جہاں بھی کسی لفظ کے متعلق شبہ ہوا اس نے وہاں اپنے شبہ کا اظہار کر دیا۔کتاب العلم کے محولہ بالا بابوں سے واضح ہوتا ہے کہ امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک یہ امر مسلم ہے کہ صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ پہنچانے میں الفاظ اور معانی دونوں کی صحت کا اپنی طرف سے پورا پورا اہتمام رکھا۔امام مالک و امام شافعی رحمۃ اللہ علیہا کے نزدیک روایت بالمعنی مطلق جائز نہیں۔جیسا کہ فتح المغیث میں ان کے اس مذہب کے متعلق تصریح کی گئی ہے (صفحہ ۲۷۶) اور یہ دونوں امام احادیث کے محفوظ کرنے میں بطور پیش رو اور ہراول کے ہیں۔کتاب العلم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری نے ان کے اس مذہب کی تائید کی ہے۔مگر اس قدر استثناء کے ساتھ کہ حافظہ ونہم کی کمی و بیشی کی وجہ سے روایت کے الفاظ میں بغیر اصل مفہوم تبدیل ہونے کے کسی قدر لفظی اختلاف کا واقع ہونا ممکن ہے اور اس حد تک یہ لفظی اختلاف جو بغیر ارادہ و قصد کے واقع ہوا ہے ہمیں قبول کرنا پڑے گا۔اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ امام موصوف روایت بالمعنی نقل کرنا یا اسے خواہ مخواہ قبول کرنا جائز سمجھتے ہیں۔بلکہ اس کے برعکس آپ دیکھیں گے کہ وہ ایسی روایات کو جن میں کچھ لفظی اختلاف ہے۔متعد د سندوں کے ساتھ لا کر قدر مشتر کہ کو نمایاں کر کے اس سے جو تھوڑی سی خلش پیدا ہوتی ہے اسے بھی باقی نہیں رہنے دیتے۔نقد و تعدیل کے غربال میں روایات کو اس خوبی سے چھانا ہے کہ اصل خلاصہ احادیث نبویہ کا ہمارے لئے ہو بہو بحال کر دیا ہے۔