صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 392
صحیح البخاری جلد 1 ۳۹۲ ٦ - كتاب الحيض سے لگاتے اور اپنے جذبات محبت کا اظہار فرماتے۔جس میں شہوت کا کوئی دخل نہ تھا۔جیسا کہ حضرت عائشہ نے جرات کے ساتھ اس صداقت کا اظہار کیا ہے۔( حدیث: ۳۰۲) آپ ان کو تہ بند باندھنے کے لئے فرماتے۔یہ الفاظ بھی مباشرت کے اُس معنی کو رد کرتے ہیں جس کی طرف بعض نا بلد لوگوں کا خیال جاتا ہے۔چونکہ وہ خود اپنی شہوتوں میں اندھے ہوتے ہیں ، اس لئے اپنی آنکھ سے مقدس انسانوں کو دیکھتے ہیں۔روایت نمبر ۲۹۸ کے الفاظ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي۔معلوم ہوتا ہے کہ عربوں میں ایام حیض کے لئے مخصوص کپڑے ہوتے تھے ؟ جن کو محـايـض کہتے تھے۔جس کی مفرد مَحِيضَة ہے۔(لسان العرب۔تحت لفظ حيض۔المجلد الثاني۔صفحه (۱۰۷) اور اب تک بھی عربی ممالک میں الگ کپڑا اس غرض کے لئے ہوتا ہے، لنگوٹ کی طرح مگر اس سے چوڑا۔ہر عورت اپنے پاس تین چار کپڑے رکھتی ہے۔ازار یعنی نہ بند حیض کے کپڑے کے علاوہ باندھنے کے لئے فرمایا ، تا خون وغیرہ سے محفوظ رہیں۔آپ کی یہ احتیاط بھی صاف بتلاتی ہے کہ یہ مباشرت محض حسن معاشرت اور خیالات فاسدہ کی اصلاح کی غرض سے تھی اور آپ کی بیویوں کا پاک نمونہ دیکھیں کہ وہ پوری جرأت سے صحابہ کے سامنے عند الاختلاف اپنا مشاہدہ بیان کرتی ہیں تا کہ وہ غلط خیالات سے نجات پائیں۔جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شریعت کا بہت کچھ حصہ اہل کتاب سے لیا ہے وہ یہاں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کیا آپ ان سے لے رہے ہیں یا ان کے بیہودہ غلو آمیز خیالات کی اصلاح کر کے ان کو نئے نئے عملی سبق دے رہے ہیں جو بالآخر رسم و رواج اور لغو عادتوں کی قیدوں سے ان کی رہائی کا موجب ہوئے جیسا کہ قرآن کریم اس کی تصریح بایں الفاظ فرماتا ہے: وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالاغُلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمُ (الأعراف: ۱۵۸) { ترجمہ: اور اُن سے اُن کے بوجھ اور طوق اُتار دیتا ہے جو اُن پر پڑے ہوئے تھے۔} امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مُبَاشَرَةُ الْحَائِضِ کا عنوان قائم کر کے اُن فقیہوں کے خیالات کا بھی رد کیا ہے جو آیت قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ کے الفاظ فِي الْمَحِيضِ کے معنے جائے حیض“ کر کے لغو بحثوں اور مسائل کی موشگافیوں میں پڑ گئے ہیں۔(تفصیل کے لئے دیکھئے: بداية المجتهد۔كتاب الغسل۔الباب الثالث في معرفة أحكام الحيض والاستحاضة۔الجزء الاول، صفحه ۴۰ - ۴۱) امام موصوف نے غیر مستند اور شاذ روایتیں بالکل نظر انداز کر دی ہیں۔رَوَاهُ سُفْيَانُ عَنِ الشَّيْبَانِي كه کرسند روایت کی وضاحت کر دی ہے یعنی عبدالواحد کی سند سے سفیان ثوری نے بھی یہی روایت بیان کی جیسا کہ خالد بن عبد اللہ واسطی اور جریر بن عبدالحمید نے بھی شیبانی سے اسی طرح بیان کیا۔(فتح الباری جلد اول صفحه ۵۲۵ ) خلاصہ یہ کہ ان کی یہ روایتیں نہایت صحیح ہیں جو دوسری کمز ور روایتوں کو رد کرتی ہیں۔مباشرت کے لغوی معنے جسم سے جسم لگانا یا ساتھ لیٹنا یا مطلق چھونا۔لسان العرب نے تینوں معنے مثالوں سے واضح کئے ہیں۔بَشَرَهُ: بدن کا چمڑا۔مُبَا شَرَةُ الرَّجُلِ الْمَرْأَةَ لِتَضَامَ اَبْشَارِهِمَا - مرد و عورت کے بدنوں کا ایک دوسرے سے لگنے کی وجہ سے جماع کو مباشرت کہتے ہیں۔بَاشَرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مُبَاشَرَةً : كَانَ مَعَهَا فِي ثَوُبِ