صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 393
صحيح البخاری جلد 1 ۳۹۳ ٦ - كتاب الحيض واحد - یعنی مرد کا اپنی بیوی سے مباشرت کرنے کے یہ معنی بھی ہیں کہ وہ اس کے ساتھ ایک ہی کپڑے میں لیٹا و مُبَاشَرَةُ الْمَرْأَةِ مُلَامَسَتُهَا یعنی مباشرت کے معنی مطلق چھونے کے بھی ہیں۔لسان العرب نے یہ لغوی معنی دے کر اُس روایت کا حوالہ دیا ہے جس میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے مباشرت کرتے تھے اور اس کے معنے مطلق بدن سے بدن لگا کر لیٹنے یا گلے لگانے کے ہیں۔وَ قَدْ يَرِدُ بَمَعْنَى الْوَطءِ۔یعنی کبھی یہ لفظ جماع کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور یہ استعمال مجازی ہے جس کے لئے قرینہ صارفہ کی ضرورت ہوتی ہے۔(لسان العرب۔تحت لفظ بشر۔المجلد الأول۔صفحه ۲۶-۲۸۷) باب مذکور میں جو تین روایتیں لائی گئی ہیں۔انہوں نے مباشرت کا مفہوم بالکل واضح کر دیا ہے۔یہاں اس لفظ کا جماع معنی کرنا جیسا کہ بعض نادان دشمن کرتے ہیں نہ صرف شریعت اسلامیہ کے صریح منشاء کے خلاف ہے بلکہ خودان روایتوں کے اصل مدعاد مضمون کے بھی خلاف ہے۔اس باب کی پہلی روایت کے سیاق و سباق سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ جنبی اور حائضہ کے متعلق چھوت چھات کا مسئلہ بیان کر رہی ہیں اور بتلا رہی ہیں کہ اعتکاف میں بھی جو کہ ایک عبادت کی حالت تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے سر دھلوایا کرتے تھے۔حالانکہ میں حائضہ ہوتی۔حضرت عائشہ کے حجرے کا دروازہ مسجد نبوی میں کھلتا تھا۔آپ مسجد میں ہی رہتے اور اپنا سر آگے کر دیتے اور حضرت عائشہ پانی ڈال کر اس کو دھوتیں۔دوسری روایت میں حائضہ کے متعلق اسی مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں: أَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ يَمْلِكُ ارْبَهُ۔یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جذبات پر پورا پورا قابور رکھتے تھے۔النبي ولي الله بَاب ٦ : تَرْكُ الْحَائِضِ الصَّوْمَ حائضہ کا روزہ چھوڑنا ٣٠٤ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ :۳۰۴: ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ محمد بن جعفر نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: زید بن أَخْبَرَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ عَنْ اسلم نے مجھے بتلایا۔انہوں نے عیاض بن عبداللہ عِيَاضٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سے، عیاض نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت الْخُدْرِي قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید اضحی کی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحَى أَوْ یا عید فطر میں عید گاہ کی طرف گئے اور عورتوں کے فِطْرِ إِلَى الْمُصَلَّى فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ پاس سے گذرے اور فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي صدقہ دو۔کیونکہ دوزخیوں میں تم ہی مجھے زیادہ تعداد