صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 391
صحیح البخاری-جلد ا ۳۹۱ ٦ - كتاب الحيض ۳٠٣: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ :۳۰۳: ہم سے ابو نعمان نے بیان کیا، کہا: عبدالواحد حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ حَدَّثَنَا نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: شیبانی نے الشَّيْبَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: عبدالله بن شداد نے ہم ابْنُ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ مَيْمُونَةً سے بیان کیا ، کہا: میں نے حضرت میمونہ سے سناوہ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ عورتوں میں سے کسی عورت کے ساتھ بدن سے بدن حَائِضُ لگا کر لیٹنا چاہتے تو اسے فرماتے اور وہ نہ بند باندھ لیتیں حالانکہ وہ (اسوقت ) حائضہ ہوتیں۔اور سفیان نِّسَائِهِ أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ وَهِيَ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ عَنِ الشَّيْبَانِي۔نے بھی شیبانی سے یہ حدیث روایت کی۔شریح: مُبَاشَرَةُ الْحَائِضِ : اس مباشرت سے مراد جماع نہیں بلکہ بدن سے بدن لگا کر ساتھ لیٹنا ہے۔حضرت عائشہ کی یہ تصریح ہر ایک قسم کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے کافی ہے اور باوجود اس صراحت کے مباشرت کے معنے جماع کرنا نہایت ظلم ہوگا۔یہ غور کرنے کی بات ہے کہ آٹھ نو بیویاں رکھتے ہوئے پھر حائضہ بیوی کے ساتھ بدن سے بدن لگانے اور يَمْلِكُ اربہ کے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔ساتویں ہجری میں حضرت میمونہ سے شادی ہوئی تھی اور اس عرصہ میں آپ کی نو بیویاں تھیں۔حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ کی روایتوں سے کم از کم اتنا تو ضرور معلوم ہوتا ہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ مباشرت کرتے وقت آپ کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں۔تو ایسی حالت میں دوسری بیویاں چھوڑ کر خاص حائضہ کے ساتھ لیٹنے میں سوائے اصلاح کے اور کچھ غرض نہ تھی۔بنی اسرائیل میں حائضہ عورت کو سخت نا پاک سمجھا جاتا تھا۔اگر مرد اپنی بیوی کے ساتھ اتفاق سے بھی لیٹ جاتا تو وہ سات دن تک نا پاک رہتا اور اس کا بستر بھی ناپاک ہوتا جس پر وہ لیٹتا۔(احبار، باب: ۱۵، آیت:۲۴) ان خیالات کا ایک گہرا اثر عربوں پر بھی تھا خاص کر مدینہ اور اس کے مضافات کے عربوں پر جو یہودیوں کے درمیان رہتے تھے اور آپ کی یہ بیویاں بھی مدینہ میں ہی آپ کے گھر آئیں تھیں اور آپ کی مدنی زندگی کے حالات بیان کرتی تھیں۔روایت نمبر ۲۹۸ کے مضمون پر غور کریں کہ حضرت ام سلمہ کو حیض آتا ہے فَانسَلَلْتُ اور وہ آہستہ سے بستر سے سرک جاتی ہیں۔وجہ معلوم ہونے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنے ساتھ لیٹنے کے لئے فرماتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حیض کی وجہ سے اپنے آپ کو نا پاک سمجھتی تھیں۔جیسا کہ دوسری روایتوں سے بھی عورتوں کے اس قسم کے خیالات کا پتہ چلتا ہے۔ایک بار آپ نے حضرت عائشہؓ سے کپڑا مانگا تو انہوں نے جواب دیا: میں حائضہ ہوں۔آپ نے فرمايا: إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ (مسلم کتاب الحيض باب جواز غسل الحائض رأس زوجها) یعنی حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ان لغو خیالات کی اصلاح کی خاطر آپ اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ لٹاتے تھے۔بدن سے بدن