صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xlv
صحيح البخاري ۲۵ دیباچه والوں نے بھی۔ اُن میں سے ہر ایک گروہ نے روایت کرنے میں جہاں تک لفظی ضبط کا تعلق ہے التزام کے ساتھ اس امر میں ایک دوسرے کی تقلید کی ہے۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کرام کی تعلیم میں لفظی صحت اور ضبط کا خیال رکھا لق کرتے تھے۔ جیسا کہ ایک صحابی کو دعا سکھلا ۔ صحابی کو دعا سکھلاتے ہوئے وَرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ کی صحیح ان الفاظ سے فرمائی: لا، الصحي 6 وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ۔ اور صحابی نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محولہ بالا دعا کا دوسروں سے ذکر کیا تو ساتھ ہی اپنی غلطی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح کا بھی ذکر کیا۔ (بخاری، کتاب الوضوء باب: فضل من بات على الوضوء : (۲۴۷) اس روایت سے بھی یہ با اس روایت سے بھی یہ بات بالوضاحت ثابت ہو ثابت ہوتی ہے کہ صحابہ ہے کہ صحابہ کرام نقل میں صحت لفظی کا اہتمام رکھتے تھے۔ ایسا ہی وہ معانی کو بھی محفوظ رکھنے کی پوری پوری کوشش کرتے ۔ جیسا کہ کتاب العلم کی روایت نمبر ۸۸۸۳ اور ۱۰۳ سے عیاں ہے۔ اگر صحابہ کرام الفاظ کو ضبط نہ کرتے اور صرف معنی کو ہی محفوظ رکھنا کافی سمجھتے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ رُبَّ مُبَلَّغ أَوْعَلَى مِنْ سَامِع ( کتاب العلم باب ۱۹ ۴۹) کے ماتحت ہمارے ذہنوں کے لئے کام کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہتی۔ ایک سننے والے کے لئے اپنی عقل و فکر استعمال کرنے کا موقع اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب وہ الفاظ محفوظ ہوں جن سے لطیف معانی اخذ کئے جاتے ہیں۔ لیکن اگر وہ الفاظ ہی محفوظ نہ رہے تو استنباط کس طرح ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی بالکل ممکن ہے کہ ان الفاظ کا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے نکلے، کوئی اور مفہوم ہو اور سننے والے صحابی نے کچھ اور سمجھا ہو۔ جیسا کہ فی الواقعہ ایسا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ حکمت فرمایا جس کا مفہوم حضرت ابو ہریرہ نے کچھ سمجھا اور حضرت عمر نے کچھ اور۔ (مسلم کتاب الايمان۔ باب الدليل على ان من مات على التوحيد دخل الجنة) نیز دیکھئے تشریح روایت نمبر ۱۲۹، ۱۳۶۔ صلى الله صرف الفاظ کے ضبط ہونے کی صورت میں ہی ہم صحیح طور پر اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان میں سے کس نے الفاظ کا مدعاو مقصود صحیح سمجھا اور کس نے غلط ۔ صرف معنی کے محفوظ رہنے کی صورت میں کئی قسم کے احتمالات کی گنجائش باقی رہتی ہے اور ہم یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ آیا جو مفہوم اور معنی ایک صحابی ہم کو پہنچا رہا ہے، وہ فی الواقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد تھی۔ اس لئے صحابہ کرام نے روایت نقل کرتے وقت غایت درجہ احتیاط سے کام لیا کہ آپ کے الفاظ اور معنی کو حتی الوسع محفوظ رکھا اور اگر انہیں کسی امر کے متعلق شک ہوا تو شک کا اور اگر کسی بات کے متعلق علم نہ ہوا تو اپنی لاعلمی کا اظہار کر دیا اور اسی امر کی تاکید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو فرمائی اور انہیں شدید شدید الفاظ میں ڈرایا کہ کوئی ایسی بات آپ ﷺ کی طرف منسوب نہ کی جائے جو آپ نے نہ کہی ہو۔ (بخاری کتاب العلم باب اثم من كذب على النبي ﷺ روایت نمبر : ۱۰) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب العلم میں باب ۳۷ قائم کر کے باب ۹ کے عنوان کو دہرایا ہے اور اس میں ایک نہایت عمدہ مثال سے واضح کیا ہے کہ اگر الفاظ کا ضبط نہ ہو تو معانی کو آسانی سے بگاڑا جا سکتا ہے۔ باب ۳۷ کے بعد باب ۴۴ تک جو عنوان قائم کئے گئے ہیں ان سے دراصل یہی بتلانا مقصود ہے کہ صحابہ کرام کو حد : حدیث نبوی کے الفاظ محفوظ کرنے کا بھی فکرو اہتمام ہوتا تھا اور یہ کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو ہی نقل کرتے اور تابعین بھی الفاظ کے نقل کرنے میں صحابہ ریم علی