صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 384
صحيح البخاری جلد ) ۳۸۴ ٦ - كتاب الحيض شامت کا مارا شام تک نا پاک رہتا ہے ۔ (اخبار باب ۱۵ ، آیت ۱۹-۳۰) ہندوؤں میں بھی اس قسم کی سختی برتی جاتی ہے۔ حائضہ کا کھانا اور پینا اور بیٹھنا اور سونا بالکل علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔ وہ چوکے میں داخل نہیں ہو سکتی اور اس بیچاری کو اس طرح الگ تھلگ دن کاٹنے پڑتے ہیں جس طرح کہ ایک کوڑھی کو ۔ گھر کے رہنے والے سب مردو زن اس سے پر ہیز کرتے ہیں۔ سب قوموں میں کم و بیش اسی قسم کا سلوک حائضہ سے کیا جاتا تھا۔ اسلام نے انسان پر رحم کیا اور جیسا کہ اس نبی کے متعلق پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ آکر بنی نوع انسان کو بندھنوں اور بیڑیوں سے چھٹکارا دلائے گا۔ سے طر اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام ظالمانہ قیدوں سے اُن کو چھٹکارا دلایا۔ آپ نے قُلْ هُوَ أَذًى کے ارشاد کے ماتحت اپنے عملی نمونہ سے جہالت میں مبتلا مخلوق کو سکھلایا کہ عورت سے ایام حیض میں پر ہیز کرنے کا حکم محدود معنوں میں ہے اور یہ پر ہیز اس کے ناپاک ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ حالت حیض میں جماع کرنے طرفین کی صحت کو نقصان پہنچتا ہے۔ اڈی کے معانی وہ شئے جو نقصان یا ضرر دے۔ ایسا ہی اَ ۔ ایسا ہی ادی کے معانی مجازاً گندگی کے بھی ہیں ۔ کیونکہ وہ بھی انسان کو نقصان پہنچاتی ہے، اگر جسم سے اس کا ازالہ نہ کیا جائے ۔ اسلام کا مقصد وضو، غسل وغیرہ کے احکام سے صرف یہ ہے کہ انسان کے اندر ظاہری پاکیزگی اور باطنی پاکیزگی دونوں کا اہتمام پیدا ہو۔ اسی مقصد کی طرف آیت مذکورہ بالا کے یہ آخری الفاظ اشارہ کرتے ہیں: اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ حیض کے متعلق احکام شریعت اور نبی صلی اللہ علیہ سلم کا اسوہ حسنہ بیان کرنے کے لئے امام بخاری علیہ الرحمۃ نے تمھیں (۳۰) باب باندھے ہیں۔ ان میں سے بعض میں دوسری قوموں کے غلط خیالات کارڈ کیا گیا ہے اور بعض میں اسلامی فقہاء کے استدلالات کا سقم واضح کر کے ان کی اصلاح کی گئی ہے۔ بَاب ۱ : كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الْحَيْضِ حیض کی ابتداء کس طرح ہوئی وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ یہ ایک ایسی بات هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی لڑکیوں کے لئے وَقَالَ بَعْضُهُمْ كَانَ أَوَّلُ مَا أُرْسِلَ مقدر کر دی ہے۔ اور بعض نے کہا کہ پہلے پہل الْحَيْضُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ { قَالَ أَبُو جو حیض بھیجا گیا تو وہ بنی اسرائیل پر بھیجا گیا) عَبْدِ اللهِ } وَحَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى (ابو عبد اللہ بخاری نے کہا ) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ ۔ کی حدیث عام ہے۔ الفاظ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۵۱۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔