صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 385
صحيح البخاری جلد | ۳۸۵ باب : الْأَمْرُ بِالنُّفَسَاءِ إِذَا نُفِسْنَ نفساء کا معاملہ جب انہیں خونِ نفاس آئے ٦ - كتاب الحيض ٢٩٤ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ :۲۹۴ ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ سفیان نے ہمیں بتلایا، کہا: میں نے عبد الرحمن بن الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ قَالَ سَمِعْتُ قاسم سے سنا۔انہوں نے کہا: میں نے قاسم سے سُنا۔الْقَاسِمَ يَقُوْلُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُوْلُ وہ کہتے تھے۔میں نے حضرت عائشہ سے سُنا۔وہ کہتی خَرَجْنَا لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا تھیں کہ ہم (سفر پر نکلے۔ہم یہی سمجھتے تھے کہ حج کریں گے۔جب ہم سرف مقام میں پہنچے تو مجھے بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُوْلُ اللَّهِ حیض آگیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِيْ قَالَ مَا آئے اور میں رو رہی تھی۔فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ کیا لَكِ أَنْفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ تمہیں حیض آیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔فرمایا: یہ ایک كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِيْ مَا ایسا امر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی لڑکیوں کے لئے يَقْضِي الْحَاجُ غَيْرَ أَنْ لا تَطُوْ فِيْ بِالْبَيْتِ مقدر کیا ہے۔پس تم جو کچھ حاجی کرتا ہے کرو، سوائے قَالَتْ وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله اس کے کہ بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِّسَائِهِ بِالْبَقَرِ۔کی قربانی کی۔اطرافه ٣٠٥، ۳۱٦، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، ۱۵۱۶، ١٥۱۸، ١٥٥٦، ١٥٦٠، ١٥٦١، ،۱۷۷۱ ،۱۷۶۲ ،۱۷۵۷ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،۱۶۵۰ ،۱١٥٦٢، ٦٣٨ ،٢٩٨٤، ٤٣٩٥، ٤٤٠١ ،۲۹۰۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ۷۲۲۹ ،٤٤٠٨، ٥٣٢٩، ٥٥٤٨ ٥٥٥٩، ٦١٥٧ تشریح: إِنَّ هذا أمرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلى بَنَاتِ آدَمَ پہلے باب میں حیض کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور حضرت ابن مسعودؓ (وَقَالَ بَعْضُهُمْ سے مراد حضرت ابن مسعود کی روایت ہے ) کی روایت پہلو بہ پہلو رکھ کر یہ بتلایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول حضرت ابن مسعود کی روایت کے مفہوم کے برخلاف تمام عورتوں پر حاوی ہے۔آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایا: هذَا شَيْء كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ - بنات آدم میں سب عورتیں شامل ہیں یعنی حیض بنی اسرائیل یا عرب کی عورتوں کے لئے ہی مخصوص نہیں بلکہ سب عورتوں کو آتا ہے۔