صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 383
صحيح البخاری جلد ) ۳۸۳ بالله العوالمع ٦ - كتاب الحيض كِتَابُ الْحَيْضِ 00000000000000 وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور تجھ سے حیض کے متعلق الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ پوچھتے ہیں ۔ کہ وہ ضرر دینے والی چیز ہے۔ حیض میں فِي الْمَحِيْضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى عورتوں سے الگ رہو اور اس وقت تک کہ وہ پاک نہ يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ ہوں ، اُن کے قریب نہ جاؤ۔ جب اچھی طرح پاک صاف ہو جائیں تو اُن کے پاس آؤ ایسے طور سے جو أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ اللہ یقینا ان لوگوں سے محبت يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة : ۲۲۳) ۔ رکھتا ہے جو اپنے گناہوں سے پشیمان ہو کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور جو صاف ستھرے رہتے ہیں۔ تشریح : حیض و خون ہے جو : وہ خون ہے جو بحالت صحت بلوغت کے بعد بڑ ، بعد بڑھاپے تک عورتوں کو ماہوار آتا ہے ۔ ایا ہے۔ ایام حیض میں شریعت کا حکم واضح ہے کہ جب تک حیض کا کا خون بند نہ ہو اور عورت نہا دھو کہ ا دھو کر صاف ستھری نہ ہو جائے ، مرد اس کے قریب نہ جائے۔ قریب نہ جانے کی تشریح خود قرآن مجید نے اس آیت میں کر دی ہے: فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ۔ (البقرة: (۲۲۳) یعنی جب وہ نہا کر پاک وصاف ہو جائیں تو تم اُن کے پاس ایسے طور سے آؤ، جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ وہ حکم یہ ہے : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ۔ (البقرۃ: ۲۲۴) عورتیں تمہارے لیے کھیتی ہیں ، اپنی کھیتی میں آؤ۔ یعنی ثمرہ حاصل کرنے کے لیے اُن سے جماع کرو۔ لفظ انیان کے محاورہ سے لَا تَقْرَبُوهُنَّ کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ کہ ایام حیض میں ان سے ہم صحبت نہ ہو۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ اُن کے پاس نہ بیٹھو، یا انہیں نہ چھوڑ۔ قُلْ هُوَ أَذًى کہہ کر جہاں مباشرت نہ کرنے کی وجہ بیان کی ہے، وہاں باطل خیالات کا بھی رڈ کر دیا ہے۔ عرب بھی عورت کو ایام حیض میں اسی طرح نا پاک سمجھتے تھے جس طرح یہودی اور ہندو وغیرہ۔ یہود کے نزدیک حائضہ کو چھونے والا بھی اسی طرح نا پاک ہو جاتا ہے جس طرح جنبی کو چھونے والا۔ نیز اس کا بستر اور وہ جگہ بھی جہاں وہ سوتی یا بیٹھتی ؟ نا پاک سمجھی جاتی تھی۔ بلکہ اس کی نشست گاہ کو چھونے والا بھی یہود کے نزدیک ناپاک ہو جاتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اگر اتفاق سے اُس کا کپڑا یا بستر کسی کو لگ جائے تو وہ بھی نجس قرار دیا جاتا ہے اور نہانے اور کپڑا دھونے کے باوجود بھی وہ