صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 382
صحيح البخارى جلد ا ۳۸۲ ۵- كتاب الغسل تشریح : غُسُلُ مَا يُصِيب مِنْ فَرَجِ الْمَرْأَةِ: روایت نمبر ۲۹ کا مضمون روایت نمبر ۱۷۹ میں گذر چکا مَا ! ہے۔وہاں سعد بن حفص راوی ہیں اور یہاں ابو معمر۔امام موصوف نے سابقہ مسئلہ واضح کرنے کے لیے اس باب میں اس کا اعادہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی باب کے عنوان میں ایک نیا مسئلہ بھی استنباط کیا ہے۔انزال نہ ہونے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا ہے کہ اندام نہانی سے کچھ آلائش لگ جاتی ہے۔یہ باب بطور ایک مزید دلیل کے قائم کیا گیا ہے۔اگر حضرت ابو ہریرہ کی روایت ناسخ ہوتی تو حضرت عثمان و حضرت علی و حضرت زبیر و حضرت طلحہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ اس نسخ سے نا واقف نہیں رہ سکتے تھے۔اس باب میں حضرت ابی بن کعب کی بھی روایت نقل کر دی گئی ہے تا ان کے فتویٰ کے بناء واضح ہو جائے۔زید بن خالد جہنی نے حضرت عثمان وغیرہ سے یہ مسئلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پوچھا تھا اور حضرت ابی بن کعب نے ان کے فتویٰ کی تصدیق کی کیونکہ انہوں نے خود یہ مسئلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا۔ان روایتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کی روایت کسی طرح بھی ناسخ نہیں ہو سکتی۔اور جَهَدَھا کے وہی معنے کرنے پڑیں گے جو امام نووی نے کئے ہیں اور امام بخاری نے احتیاط کرنے کے متعلق جو رائے دی ہے وہ محض ایک اختلاف کی وجہ سے دی ہے نہ اس لیے کہ کوئی روایت ناسخ و منسوخ ہے۔یہی مذہب جمہور کا ہے، جیسا کہ امام ابن رشد نے بدایۃ المجتہد میں اس اجماع کی طرف اشارہ کیا ہے۔(بداية المجتهد، كتاب الغسل، الباب الثاني في معرفة النواقض لهذه الطهارة، المسئلة الاولى) حدیث میں آتا ہے کہ جو شبہات سے بچا اس نے اپنے دین کے لیے احتیاط کر لی۔(روایت نمبر ۵۲ ) بعض وقت انسان خیال کرتا ہے کہ انزال نہیں ہوا اور کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے۔0000000