صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 381
صحيح البخاري - جلد ا ٣٨١ ۵- كتاب الغسل أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان سے پوچھا، کہا: إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَلَمْ يُمْنِ قَالَ بھلا بتلائیں تو سہی، مرد جب اپنی عورت سے ہم عُثْمَانُ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَ صحبت ہو اور انزال نہ ہو؟ تو حضرت عثمان نے کہا: يَغْسِلُ ذَكَرَهُ قَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُهُ مِنْ وضو کرے جس طرح کہ نماز کے لیے وضو کرتا ہے اور رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ اپنی شرم گاہ دھو لے۔حضرت عثمان کہتے تھے: میں نے رسول اللہ عے سے یہ سنا۔پھر میں نے اس کے عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبِ وَ الزُّبَيْرَ متعلق حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت زبیر بن ابْنَ الْعَوَّامِ وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأُبَيَّ بْنَ عوام اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت ابی بن كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَأَمَرُوْهُ بِذَلِكَ لَب سے پوچھا تو انہوں نے ان کو بھی یہی حکم دیا۔قَالَ يَحْيَى وَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنْ عُرْوَةَ (کي کہتے تھے ) ابوسلمہ نے مجھے بتایا کہ عروہ بن زبیر ابْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنْ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ نے انہیں خبر دی کہ حضرت ابوایوب نے انہیں بتلایا أَنَّهُ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَّسُولِ اللهِ ﷺ کہ انہوں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔۲۹۳: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۲۹۳: ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: جی نے يَحْيَى عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔أَبِي قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو أَيُّوبَ قَالَ أَخْبَرَنِي کہا: میرے باپ نے مجھے خبر دی۔کہتے تھے کہ مجھے حضرت ابوایوب نے خبر دی۔انہوں نے کہا: حضرت أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا ابی بن کعب نے مجھے بتلایا کہ انہوں نے پوچھا: یا جَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَلَمْ يُنْزِلْ قَالَ رسول اللہ ! جب مرد عورت سے ہم صحبت ہو اور اُسے يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ انزال نہ ہو؟ تو آپ نے فرمایا: اس کے بدن کا جو وَيُصَلِّي قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْغُسْلُ أَحْوَطُ حصہ عورت سے چھوا ہے اس کو دھولے۔پھر وضو وَذَاكَ الْآخِرُ وَ إِنَّمَا بَيَّنَّا لِاخْتِلَافِهِمْ۔کرے اور نماز پڑھے۔ابو عبد اللہ (بخاری) نے کہا کہ نہانے میں زیادہ احتیاط ہے۔ہم نے یہ دوسری روایت ان کے اختلاف کی وجہ سے بیان کی ہے۔