صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xliv of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xliv

صحيح البخ یباچه چہارم : راویوں کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے: حدیث کو مشہور قرار دیں گے اگر اس کے راویوں کی تعداد مختلف زمانوں اور جگہوں میں بکثرت ہو اور متواتر قرار دیں گے اگر اس کے راوی اس کثرت سے ہوں کہ ان کے درمیان جھوٹ پر اتفاق ہونا ناممکن ہو اور غریب ہوگی اگر ایک وقت ( زمانہ ) میں ایک ہی شخص روایت کرنے والا ہو اور فرد کہلائے گی اگر تمام زمانوں میں اس کا ایک راوی رہا ہو اور عزیز ہوگی اگر ہمیشہ دو راویوں سے مروی ہو اور احاد اگر متعدد راویوں سے مروی نہ ہو۔پنجم بمنبع روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے: ایک حدیث کو معروف قرار دیں گے اگر روایت کردہ قول یا عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو یا کسی امر کے متعلق آپ نے اجازت دی ہو اور موقوف قرار دیں گے اگر کسی صحابی کا قول یا عمل یا اجازت ہو۔مقطوع ہوگی اگر تابعین تک ہی پہنچتی ہو اور منقطع اگر صرف تبع تابعین تک پہنچے۔ششم : طریق روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے: ایک حدیث کو مدلس قرار دیں گے اگر کسی راوی نے اپنے ہم عصر کی سند پر اسے روایت کیا ہو جبکہ خود براہ راست اسے اصل راوی سے نہیں سنا اور روایت کرتے وقت ایسے طور سے بیان کرے کہ گویا اس نے اپنے ہم عصر راوی سے سنا ہے۔مدرج شمار ہوگی اگر اس میں راوی نے کچھ اپنی طرف سے زیادتی کی ہو اور معنعن کہلائے گی اگر راوی یوں بیان نہ کرے کہ میں نے فلاں سے سنایا فلاں کو ایسا کرتے دیکھا بلکہ یوں بیان کرے عَنْ فُلَانٍ عَنْ فُلَانٍ یعنی فلاں فلاں سے مروی ہے اور مقلوب کہلائے گی اگر راوی کے نام یا کنیت وغیرہ میں کوئی تصرف واقع ہوا ہو اور مہم کہلائے گی اگر غیر معروف راوی سے مروی ہو یا اس میں کسی قسم کا اشتباہ واقع ہو۔روایت باللفظ وروایت بالمعنی علاوہ ازیں محدثین نے یہ سال بھی اٹھایا ہے کہ آیاصحابہ کرام سے جو باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات طیبہ میں سے مروی ہیں وہ لفظا ومعنا بھی وہی ہیں جو آپ نے فرمائے یا یہ کہ ان کی روایت میں الفاظ کا نہیں بلکہ صرف معانی کا ہی اہتمام رکھا گیا ہے جنہیں ان کی طرف سے الفاظ کا جامہ پہنایا گیا۔اس اعتبار سے وہ بات جو ضبط الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی ہوا سے روایت باللفظ اور جوضبط معانی کے ساتھ مروی ہوا سے روایت بالمعنی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔کتاب العلم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول روایت کرتے وقت الفاظ اور معانی دونوں کا خیال رکھا کرتے تھے۔الفاظ کے متعلق ان کے اہتمام کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ روایت میں جہاں کسی لفظ کے متعلق شک ہوا تو اس امر کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ لفظ کہا یا یہ لفظ۔(مثال کے لئے دیکھئے کتاب العلم روایت نمبر ۸۶، ۹۱،۸۷، ۱۱۲،۱۰۵، ۱۱۷) جیسا صحابہ کرام نے اس شک کا اظہار کیا، ایسا ہی تابعین نے بھی اور تابعین سے روایت کرنے