صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xliii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xliii

صحيح البخاري ۲۳ دیباچه لوگوں سے روایت کر رہا ہے جس کے مضمون کا جاننا تمام مکلفین کے لئے بلا کسی عذر و حیلہ کے ضروری ہے یا روایت میں کسی ایسے بڑے کام کا تذکرہ ہے جس کے لئے بہت سے وسائل درکار ہوں یا روایت میں ایسی بات مذکور ہے کہ جس کے جھوٹ ہونے کی ایک بڑی جماعت نے تصریح کی ہے جس جماعت کا جھوٹ پر اتفاق کر لینا اور ایک دوسرے سے محض سن سنا کر جھوٹ بولتے رہنا نا ممکن ہے وہ بھی نا قابل پذیرائی ہوگی ۔ ( نیز دیکھئے فتح المغیث صفحہ ۱۴۰، ۴۸۱) احادیث کی اقسام اور اصطلاحات: غرض اس قسم کے اصول روایت اور اصول درایت کی سوئی کے در اتو معیار کے مطابق پر کچھ کر صحت یا عدم صحت کے اعتبار سے احادیث کی چھ بڑی بڑی تقسیمیں کی گئی ہیں۔ اول: حدیث کے متن اور نفس مضمون کو مد نظر رکھتے ہوئے: 111111111111 اسے صحیح قرار دیں گے بشرطیکہ اصول درایت کے مطابق ہو اور ضعیف ہوگی اگر اصول درایت کی رو سے اس میں کوئی نقص ہو۔ حسن ہوگی اگر بین بین کی حالت ہو۔ موضوع ہوگی اگر جعلی بنائی گئی ہو۔ معلول ہوگی اگر وہ بظاہر تمام شرائط کو اپنے اندر رکھے مگر کوئی خفیف سا شبہ اس کے متعلق کسی وجہ سے پیدا ہوتا ہو۔ مدرج ہوگی اگر اس میں اپنی طرف سے کچھ ملایا گیا ہو۔ مضطرب ہوگی اگر اس میں راویوں کے متعلق اختلاف ہو اور فرد ہوگی اگر کسی خاص مقام سے مخصوص ہو یعنی مثلاً صرف مدینہ منورہ میں اس کا لوگوں کو علم ہے۔ دوم : راویوں کے ثقہ یا غیر ثقہ ہونے کے اعتبار سے: اس وقت صحیح قرار دیں گے جب اس کے تمام راوی دینداری، صلاحیت، سلامت روی، راستبازی اور حافظہ وغیرہ قومی ذہنیہ کے اعتبار سے صحیح و سالم اور ہر قسم کی تہمت سے مبرا ہونے میں خاص شہرت رکھتے ہوں اور ان کی روایتوں کے درمیان معنا یا لفظا اختلاف نہ ہو اور اسے حسن قرار دیں گے اگر اس کے متعلق صرف لفظا اختلاف ہو اور ضعیف ہو گی اگر ثقہ ہونے کے شروط میں سے کسی ایک شرط کی کمی ہو۔ متروک ہوگی اگر اس کے راویوں میں سے کوئی جھوٹ سے متہم ہوا ہو۔ منکر ہوگی اگر ثقہ راویوں کی روایت کے خلاف ہو اور معروف ہو گی اگر اس کے متعلق سبھی کو اتفاق ہو۔ سوم بتسلسل اسناد کے اعتبار سے: ایک حدیث کو مرفوع قرار دیں گے جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو اور متصل قرار دیں گے اگر سلسلہ وار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے۔ منقطع ہوگی اگر کوئی ایک حلقہ روایت سند کے وسط سے مفقود اور ہے۔ معلق ہوگی اگر ایک سے زیادہ حلقہ ہائے سند مفقود سند مفقود ہوں ۔ مسند ہوگی اگر تمام راویوں کے نام مذکور ہوں ) مرسل کہلائے گی اگر کسی صحابی سے مروی ہو اور اس کا نام مذکور نہ ہو اور معنعن کہلائے گی اگر حرف ”فن“ سے مروی ہو۔