صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xliii
صحيح البخارى ۲۳ دیباچه لوگوں سے روایت کر رہا ہے جس کے مضمون کا جانا تمام مکلفین کے لئے بلا کسی عذر وحیلہ کے ضروری ہے یا روایت میں کسی ایسے بڑے کام کا تذکرہ ہے جس کے لئے بہت سے وسائل درکار ہوں یا روایت میں ایسی بات مذکور ہے کہ جس کے جھوٹ ہونے کی ایک بڑی جماعت نے تصریح کی ہے جس جماعت کا جھوٹ پر اتفاق کر لینا اور ایک دوسرے سے محض سن سنا کر جھوٹ بولتے رہنا نا ممکن ہے وہ بھی نا قابل پذیرائی ہوگی۔( نیز دیکھئے فتح المغیث صفحه ۴۸۱،۱۴۰) غرض اس قسم کے اصول روایت اور اصول درایت کی کسوٹی کے احادیث کی اقسام اور اصطلاحات: معیار کے مطابق پر کچھ کر صحت یا عدم صحت کے اعتبار سے احادیث کی چھ بڑی بڑی تقسیمیں کی گئی ہیں۔اول : حدیث کے متن اور نفس مضمون کو مد نظر رکھتے ہوئے: اسے صحیح قرار دیں گے بشرطیکہ اصول درایت کے مطابق ہو اور ضعیف ہوگی اگر اصول درایت کی رو سے اس میں کوئی نقص ہو۔حسن ہوگی اگر بین بین کی حالت ہو۔موضوع ہوگی اگر جعلی بنائی گئی ہو۔معلول ہوگی اگر وہ بظاہر تمام شرائط کو اپنے اندر رکھے مگر کوئی خفیف سا شبہ اس کے متعلق کسی وجہ سے پیدا ہوتا ہو۔مدرج ہوگی اگر اس میں اپنی ساشبہ طرف سے کچھ ملایا گیا ہو۔مضطرب ہوگی اگر اس میں راویوں کے متعلق اختلاف ہو اور فرد ہوگی اگر کسی خاص مقام سے مخصوص ہو یعنی مثلاً صرف مدینہ منورہ میں اس کا لوگوں کو م ہے۔دوم : راویوں کے ثقہ یا غیر ثقہ ہونے کے اعتبار سے: اس وقت صحیح قرار دیں گے جب اس کے تمام راوی دینداری، صلاحیت، سلامت روکی ، راستبازی اور حافظہ وغیرہ قومی ذہنیہ کے اعتبار سے صحیح وسالم اور ہر قسم کی تہمت سے مبرا ہونے میں خاص شہرت رکھتے ہوں اور ان کی روایتوں کے درمیان معنا یا لفظاً اختلاف نہ ہو اور اسے حسن قرار دیں گے اگر اس کے متعلق صرف لفظاً اختلاف ہو اور ضعیف ہوگی اگر شفتہ ہونے کے شروط میں سے کسی ایک شرط کی کمی ہو۔متروک ہوگی اگر اس کے راویوں میں سے کوئی جھوٹ سے متہم ہوا ہو۔منکر ہوگی اگر ثقہ راویوں کی روایت کے خلاف ہو اور معروف ہوگی اگر اس کے متعلق سبھی کو اتفاق ہو۔سوم بتسلسل اسناد کے اعتبار سے: ایک حدیث کو مرفوع قرار دیں گے جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو اور متصل قرار دیں گے اگر سلسلہ وار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے منقطع ہوگی اگر کوئی ایک حلقہ روایت سند کے وسط سے مفقود معلق ہوگی اگر ایک سے زیادہ حلقہ ہائے سند مفقود ہوں۔مسند ہوگی اگر تمام راویوں کے نام مذکور ہوں اور مرسل کہلائے گی اگر کسی صحابی سے مروی ہو اور اس کا نام مذکور نہ ہو اور معنعن کہلائے گی اگر حرف ”کن“ سے مروی ہے۔ہو۔---