صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 370 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 370

صحيح البخاري - جلد ا ۵ - كتاب الغسل سوم صفحہ ۲۳۱) یہ جواب مضحکہ خیز ہے۔پتھر کو بھاگتے دیکھ کر غصہ نہیں آیا کرتا بلکہ حیرت و تعجب ہوتا ہے۔غصہ کسی انسان یا حیوان پر آیا کرتا ہے۔غرض اس روایت میں بظاہر کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے شارحین کے خیال کی تصدیق ہوتی ہو، بلکہ اس میں ان کے اس خیال کی تردید کرنے والے قرائن کافی موجود ہیں اور ان میں سے بعض ایسے قرائن ہیں جو خود اُن کو بھی کھٹکے ہیں اور اس وجہ سے اپنی کمزوری محسوس کر کے انہوں نے ادھر ادھر کی بودی تاویلیں کرنی شروع کر دی ہیں۔فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى الحجر کے الفاظ بھی ان کی تائید نہیں کرتے۔علی بمعنی عِندَ عربی زبان میں استعمال ہوتا ہے اور اسی لیے ترجمہ متن میں لفظ علی کے معنے عِندَ (پاس) کئے گئے ہیں کہ انہوں نے اپنے کپڑے حجر کے پاس رکھے۔علی کے اس استعمال کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔مزاحم عقیلی کا یہ مشہور شعر کتب معانی اور لسان العرب میں دیکھیں۔غَدَتْ مِنْ عَلَيْهِ بَعْدَ مَا تَمَّ ظِمُؤُهَا تَصِلُّ وَ عَنْ قَيْضٍ بِزِيزَاءَ مَجْهَلٍ اور کہتے ہیں نَهَضَ مِنْ عَلَيْهِ یعنی اس کے پاس سے اٹھ کھڑا ہوا۔احادیث نبویہ میں بھی علی بمعنی عِندَ استعمال ہوا ہے۔حدیث میں آتا ہے: فَإِذَا انْقَطَعَ مِنْ عَلَيْهَا رَجَعَ إِلَيْهِ الْإِيْمَانُ۔(لسان العرب، زير ماده علا ، فصل العين، حرف الواو والياء، جزء: ١٩، صفحة (۳۲) پس لفظ علی کی وجہ سے یہ کہنا کہ حجر پتھر ہی تھا کہ جس پر کپڑے رکھے گئے تھے، درست نہیں۔کیونکہ علی کے معنی عِندَ کے بھی ہیں۔علاوہ ازیں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ روایات میں الفاظ با وجود راویوں کی حد درجہ کوشش کے پورے طور پر محفوظ نہیں رہ سکے۔مترادف الفاظ تو کچھ نہ کچھ ضرور تبدیل ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ اس کی ایک مثال ہم ابھی باب ۱۸ کی شرح میں واضح کر چکے ہیں اور اس لفظی تبدیلی میں جہاں راویوں کے حافظہ کا دخل ہے ، وہاں ان کے خیالات کا بھی دخل ہے۔مثال کے لیے یہی روایت لے لیں۔جس راوی نے حجو کسی شخص کا نام سمجھا، اس نے خصوصیت سے اس طرف توجہ دلانے کے لیے ثَوْبِى حَجَرُ ثَوْبِی حَجَرُ کہا۔حرف ندا کو بالکل اُڑا دیا اور جس نے پتھر سمجھا اس نے يَا حَجَرُ روایت کیا۔چنانچہ بخاری کے چانسخوں کے سوا باقی جتنے نسخے ہیں اُن میں اس روایت کے یہ الفاظ ثَوْبِی يَا حَجَرُ اس طرح مروی ہیں : ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِى حَجَر۔ایسا ہی ان نسخوں میں اس روایت کے اور الفاظ کے متعلق بھی اختلاف ہے۔فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَنَدَبِّ بِالْحَجَرِ بعض نسخوں میں فَقَالَ کی جگہ قال ہے جس کی وجہ سے کرمانی علیہ الرحمہ نے یہ خیال کیا ہے کہ یہ امام بخاری کی طرف سے تعلیق ہے۔امام موصوف کی کتاب کے اصل مسودہ میں جس سے مستعملی اور مرضی وغیرہ انسان نے نقل کیا ہے ، بعض جگہیں خالی بھی چھوڑی ہوئی تھیں، جو نساخ نے سیاق و سباق دیکھ کر اپنی طرف سے پر کیں۔پس دیگر قرائن کے ہوتے ہوئے کوئی وجہ نہیں کہ علی کے ایک معنی پر زور دیا جائے اور کہا جائے کہ یہی لفظ آنحضرت کے منہ سے نکلا تھا اور یہ کہ آپ نے یہ لفظ اسی ایک معنی میں ہی استعمال کیا تھا۔ایسا ہی یہ کہنا بھی غلط ہے کہ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوبه میں حجر پہلے نکرہ استعمال ہوا ہے اور پھر آئی سے معرفہ کیا گیا ہے۔گویا اس