صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 371
صحيح البخاري - جلد ا ۳۷۱ ۵- كتاب الغسل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اسم علم نہیں بلکہ اسم جنس ہے۔ کیونکہ بعض اسم علم ان کے ساتھ بھی بولے جاتے ہیں اور اس کے بغیر بھی۔ مثلاً عباس بھی کہیں گے اور الْعَبّاسُ بھی۔ فَضْلُ بھی اور الْفَضْلُ بھی۔ ایک ہی جملہ میں ہم کہہ سکتے ہیں : نَادَيْتُ فَضْلًا فَلَمْ يُجِبْنِى الْفَضْلُ ۔ بالفرض اگر الف لام کا قاعدہ ہمارے قیاس میں روک بن سکتا ہے تو پھر نداء ومنادی کا مشہور و معروف قاعدہ اس سے بڑھ کر روک ہے اس امر کے لیے کہ ثَوْبِی يَا حَجَرُ میں حَجَرُ کو اسمِ جنس سمجھا جائے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے مخصوص طریقہ استدلال سے دوسری روایت حضرت ایوب والی لا کر نداء و منادی کے اسی مشہور قاعدہ کی طرف اشارہ کیا ہے فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَأَيُّوبُ میں أَيُّوبُ منادی ۔ منادی ہے اور شخص معین کا نام ۔ ن کا نام ہے۔ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : نیز ان دونوں روایتوں کے آخر میں ایک اور سند کا ذکر کرتے ہوئے امام موصوف نے حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا پر ہی ختم کر دی ہے۔ جس سے ایک تو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ مذکورہ بالا روایت سے صرف اسی قدر مستنبط کیا جا سکتا ہے کہ ننگا نہانا بھی جائز ہے اور دوسرے یہ کہ مذکورہ بالا روایت ہر سند میں حضرت ابو ہریرہ سے ہی مروی ہے۔ جن کا گو حافظہ مضبوط ہو مگر درایت میں وہ کمزور تھے اور انہی کا یہ خیال ہے کہ پتھر پر اب تک زخم ہیں۔ اس مخصوص طریق استدلال کی مثالیں پہلے بھی گزر چکی ہیں ۔ (دیکھیں تشریح کتاب الغسل باب ۱۶، کتاب الحیض باب (۱۵) نیز ان دونوں روایتوں کو حرف عطف (واو) سے اکھٹا کر کے انہیں ایک دوسرے سے معناً مرتبط کر دیا ہے۔ یہ مخصوص تصرفات امام بخاری کے مقصد کو پورے طور پر ظاہر کر رہے ہیں ۔ عنوان باب میں خلوت میں برہنہ ہوکر نہانے کی تخصیص کر کے روایتوں کے غلط مفہوم لینے سے بچایا گیا ہے۔ عرب اور بع ہا ہے۔ عرب اور بعض دیگر قو میں لوگوں کے سامنے برہنہ نہانے سے عار نہیں کرتیں۔ آنحضرت رت علی نے اس بد عادت سے منع فرمایا۔ صلى الله باب ۱ ۲ : التَّسَتُرُ فِي الْغُسْلِ عِنْدَ النَّاسِ لوگوں کے قریب نہاتے وقت پردہ کرنا ۲۸۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ ۲۸۰ : عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ انہوں نے مالک سے۔ مالک نے عمر بن عبید اللہ کے عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِي بِنْتِ مولی ابو نصر سے روایت کی کہ ابوطالب کی بیٹی حضرت ام ھانی کے مولی ابومرہ نے ان کو بتلایا کہ انہوں أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّهَانِي بِنْتَ نے ابو طالب کی بیٹی حضرت ام ھائی سے سنا۔ وہ کہتی صا الله عليسة أَبِي طَالِبٍ تَقُوْلُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ تھیں کہ جس سال مکہ فتح ہوا ، میں رسول اللہ ع صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ کے پاس گئی اور میں نے آپ کو نہاتے پایا اور حضرت