صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 369
صحيح البخارى جلد ا ۳۶۹ -۵- كتاب الغسل کسی شخص کا نام تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کپڑے لے بھاگا تھا۔انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ آدمیوں کی طرح اس کو اس لیے بلایا گیا تھا کہ اس نے آدمیوں کا سا کام کیا۔مگر ان کا یہ جواب ان کے اپنے فرضی خیال کو توڑ دیتا ہے۔اس لیے که اگر اس روایت سے معجزے ہی کا اظہار کرنا مقصود تھا تو بدرجہ اولی بیان میں وہ طریق اختیار کرنا چاہیے تھا جس سے یہ معلوم ہو کہ کپڑے لے کر بھاگنے والا پتھر ہی تھا نہ کوئی شخص اور اس امر کے ظاہر کرنے کے لیے اَيُّهَا الْحَجَرُ کے الفاظ استعمال کئے جاتے تا ذہن شئے مقصود کی طرف بآسانی منتقل ہوتا نہ یہ کہ دل میں تو مراد پتھر تھی۔مگر طر ز بیان ایسا کہ جس سے کوئی شخص سمجھا جائے۔منادی دو صورتوں میں مرفوع ہوتا ہے۔اسم علم ہونے کی صورت میں جیسے یا عباس۔یا اسم نکرہ ہونے کی صورت میں جبکہ مخاطب غیر معین شخص ہو، جیسے ایک اندھا ایک غیر معین شخص کو پکارے تو وہ یوں کہے گا: يَا رَجُلُ خُذْ بِيَدِی۔یعنی کوئی آدمی میرا ہاتھ پکڑے۔فَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِہ میں اَلْحَجَرُ کو معرفہ قرار دیکر پھر یا حَجَرُ کہ کر پکارا ہے۔اس لیے یہ تو ہر گز نہیں کہا جاسکتا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی غیر معین پتھر کو بلا رہے تھے۔وہ حجر معین اور مخصوص تھا۔اب اس معین شئے کو عاقل شخصوں کی طرح بلانا ظاہر کرتا ہے کہ یہ در حقیقت کسی شخص کا نام تھا اور روایات میں نداء ومناڈی کی یہ خاص شکل اس لیے اختیار کی گئی ہے تا پڑھنے والوں کو دھوکہ نہ لگے۔مگر جس غلطی میں پڑنے سے بچایا گیا تھا اسی میں شارحین پڑ گئے۔بعض استثنائی صورتوں میں گو غیر جاندار شے کو بھی پکارتے وقت مرفوع کیا جاتا ہے جیسے قرآن مجید میں آتا ہے: يَا نَارُ كُونِي بَرُدًا وَّ سَلَامًا عَلى إِبْرَاهِيمَ۔(الانبیاء: ۷۰) اے آگ ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی ہو۔یا جیسے یہ آیت يَأَرْضُ ابْلَعِي مَآنَكِ وَ يَاسَمَاءُ أَقْلِعِی۔(هود: ۴۵) گو بعض اوقات بے جان چیزیں بھی بطور اشخاص بلائی جا سکتی ہیں اور ان کے آخر پر حرکت (و) آتی ہے۔مگر یہ بھی نہیں ہوتا کہ حرف نداء (یا) ان سے محذوف کیا جائے۔صرف اسم علم کے لیے یہ جائز ہے کہ اس کو یا عباس کہہ کر پکارا جائے۔یا صرف عَبَّاسُ کہہ کر۔یعنی بغیر (یا) حرف نداء کے۔لیکن بے جان چیزوں سے حرف ندا کبھی محذوف نہیں کیا جاتا۔نَارُ كُونِي بَرْدًا وَّ سَلَامًا، أَرْضُ ابْلَعِي، سَمَاءُ اقلعی کبھی نہیں کہیں گے۔لیکن مذکورہ بالا روایت کی بعض سندوں میں نوبِی حَجَرُ۔ثَوْبِي حَجَرُ کے الفاظ ہیں۔حجر سے حرف نداء محذوف ہے۔( بخاری، کتاب الانبیاء، باب الخضر مع موسی) یہ بات ہمارے سابقہ استدلال کو اور بھی زیادہ قومی کرتی ہے کہ کپڑے لے کر بھاگنے والا ایک آدمی تھا جس کا نام حجر تھا۔وَاللهِ إِنَّهُ لَنَدَبٌ بِالْحَجَر : اگر شارحین روایت مذکورہ بالا کے ان الفاظ پر بھی غور کر لیتے: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَنَدَبُ بِالْحَجَرِ تو ان کے لیے فیصلہ کرنے میں کوئی مشکل نہ رہتی۔نَدَب کے معنے زخم کا نشان۔کہتے ہیں: ضَرَبَهُ حَتَّى انْدَبَه یعنی اس کو اتنا مارا کہ اس کے جسم پر نشان پڑ گئے۔مذکورہ بالا الفاظ ( خواہ امام بخاری کی طرف سے بطور تعلیق کے سمجھے جائیں جیسا کہ کرمانی علیہ الرحمہ کا خیال ہے۔(عمدۃ القاری جزء سوم صفحہ ۲۳۱ ) یا خود ہمام کی روایت کا حصہ ہوں ) صاف بتلاتے ہیں کہ حجر آدمی تھا۔جس کے جسم پر مارنے سے نشان پڑ گئے تھے۔اگر پتھر کا بھا گنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خاطر معجزہ دکھانے کے لیے تھا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام جو اس معجزے کی حقیقت سے واقف تھے، پتھر کو کیوں مارنے لگے۔بعض شارحین یہ معقول سوال اٹھا کر اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو غصہ آ گیا تھا۔(عمدۃ القاری جزء