صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 368 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 368

صحيح البخاري - جلد ا سم ۵- كتاب الغسل کی تلقین فرمائی اور حاذق طبیب کا یہی کام ہوتا ہے۔ اس سے پہلے قارئین گم شدہ چیز کے متعلق فتوئی پوچھنے والے کا واقعہ روایت نمبر 91 میں پڑھ چکے ہیں۔ اس نے بھی ایسے طریق سے سوال کرنے شروع کر دیے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی چیزیں اپنے تصرف میں لانے کی راہیں تلاش کر رہا تھا۔ جس پر آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ روایت نمبر ۲۷۸ اور ۲۷۹ کا جو تعلق نفس مسئلہ کے ساتھ ہے وہ ظاہر ہے۔ قرآن مجید انبیائے بنی اسرائیل کا ذکر کر کے فرماتا ہے: فَبِهدْ هُمُ اقْتَدِه (الانعام: (۹) یعنی انبیاء سابقین کا رویہ اختیار کرو۔ نبی ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ایوب علیہ السلام کے ننگا نہانے کا ذکر کیا ہے۔ اگر کسی صورت میں بھی ننگا نہانا خلاف فطرت اور ناجائز امر ہوتا تو آپ ضرور اس کے متعلق صحابہؓ کو یہ واقعہ سناتے وقت تنبیہ فرما دیتے یا کم از کم اس واقعہ کے غلط ہونے کے متعلق کچھ فرماتے۔ آپ کا خاموش رہنا بتلاتا ہے کہ آپؐ نے تنہائی میں نگا ہو کر نہانا معیوب نہیں سمجھا۔ شارحین کے نزدیک اس وجہ سے امام بخاری نے مذکورہ بالا روایتیں جو سند کے اعتبار سے صحیح ہیں عنوان باب میں مندرجہ دو مسئلوں میں سے پہلے مسئلہ کی تائید میں پیش کی ہیں ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحه ۵۰۱ - عمدۃ القاری جزء سوم صفحہ ۲۲۹) جہاں تک ان روایتوں کا واقعات کے ساتھ تعلق ہے، اس کے متعلق تین باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔ ایک یہ کہ سلسلہ نقل کے اعتبار سے روایت نمبر ۲۷۸ و ۲۷۹ دونوں مستند اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی قائم کردہ شروط صحت کے مطابق ہیں۔ یعنی یہ ثابت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ روایتیں نبی ی علی سے سے نقل کیں اور یہ کہ سلسلہ روایت میں میں کوئی کو ایسا راوی نہیں جس پر شک کیا جا سکے۔ صلى الله فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ : دوسرا امر جو یا درکھنے کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ خودان روایتوں کے مضمون میں کوئی انوکھی بات نہیں ۔ الفاظ کے غلط معنی کرنے سے تو ہر بات ہی انوکھی بن سکتی ہے۔ جن ممالک میں پتھر اور چٹان آدمیوں کے نام نہیں رکھے جاتے ، ان کو تو حجر اور صخر پڑھ کر یقیناً تعجب ہوگا کہ یہ پتھر کیسا تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کپڑے لے کر بھاگ گیا ۔ مگر جن ملکوں میں یہ نام آدمیوں کے رکھے جاتے ہیں، انہیں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ حجر اسی طرح ایک آدمی کا نام تھا جس طرح صخر جس کے لغوی معنی چٹان کے ہیں ۔ سامی النسل قوموں میں جمادات، نباتات اور حیوانات کے ناموں پر آدمیوں کے نام بکثرت رکھے جاتے تھے۔ چنانچہ جَنْدَل، جردل، صخر، حجر یہ عام نام ہیں جو زمانہ قدیم میں صحرائے عرب میں بکثرت مستعمل تھے۔ امام ابن حجر علیہ الرحمۃ کی مثال لیجئے ۔ اوس بن حجر ایک مشہور شاعر گذرا ہے۔ بعض قبیلوں کا نام بھی حجر تھا۔ جن شارحین نے حجر کے معنی عام پتھر سمجھ کر واقعہ مذکورہ کو ایک اعجازی رنگ دیا ہے خود ان کو بھی ایک تعجب ہوا ہے اور وہ یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کو يَا حَجَرُ ، يَا حَجَرُ کہہ کر پکارتے ہیں ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحه ۵۰۱- عمدۃ القاری جزء سوم صفحہ ۲۳۰) قواعد نحو کی رو سے یہ منادی اسم علم ہے اور کسی شخص کا نام ہونا چاہیے۔ اگر پتھر ہوتا تو اسے أَيُّهَا الْحَجَرُ کہہ کر پکارا جاتا۔ شارحین نے یہ سوال نہایت معقول اٹھایا ہے اور بجائے اس کے کہ اس کا یہ جواب دیتے کہ حجر واقعہ میں