صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 367
-۵- كتاب الغسل صحيح البخاري - جلد ا روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا کہتے تھے: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَوْرَا تُنَا مَا نَاتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ۔قَالَ احْفَظْ عَوْرَاتِكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ اَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ قَالَ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَن لَّا تُرِيَهَا أَحَدًا فَلا تُرِيَنَّهَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ كَانَ أحَدُنَا خَالِيًا قَالَ فَاللَّهُ اَحَقُّ اَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ - (ابن ماجه۔كتاب النكاح باب التستر عند الجماع) یعنی میں نے کہا: یارسول اللہ! ہم اپنے تنگ کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں۔آپ نے فرمایا سوائے اپنی بیوی یا ملک یمین کے اور سب سے اپنے تنگ کی حفاظت کرو۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر لوگ اکھٹے مل جل کر رہتے ہوں۔فرمایا: جہاں تک ہو سکے کسی کے سامنے ننگ ظاہر نہ ہونے دو۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر ہم میں سے کوئی تنہا ہو۔فرمایا: تو پھر اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔یہ وہ روایت ہے جو غلو کرنے والا فریق اپنے خیال کی تائید میں پیش کرتا ہے اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عنوانِ باب میں جسے بطور حوالہ کے پیش کیا ہے تا مخالف نکتہ خیال بھی معلوم ہو جائے۔شارحین نے اس روایت پر جرح کرتے ہوئے یہ بات واضح کر دی ہے کہ بہر راوی بذات خود ثقہ ہیں مگر جب وہ اپنے باپ سے دادا کا قول نقل کرتے ہیں تو ان کی روایت پایہ صحت سے کچھ گر جاتی ہے اور امام بخاری کی شرطوں پر ٹھیک نہیں اترتی۔کیونکہ ان کے دادا کے قول کی تصدیق کسی اور صحابی سے نہیں ہوتی۔مگر دیگر محدثین نے یہ روایت صحیح قرار دی ہے۔ان کے دادا کا نام حضرت معاویہ بن حیدہ ہے، جو ایک روایت کے مطابق صحابی اور ثقہ ہیں اور ان کے باپ کا نام حکیم ہے اور یہ بھی ثقہ تا بعین میں سے شمار کئے گئے ہیں۔شارحین کا خیال ہے کہ امام بخاری نے عنوانِ باب میں وَالسَّسَتْرُ اَفْضَلُ کے بعد بہبر کی روایت لاکر اس سے یہ مراد لی ہے کہ خلوت میں پردہ کر کے نہانا افضل ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحه ۵۰۱۔عمدۃ القاری جز ءسوم صفحه ۲۹) یعنی آنحضرت ﷺ نے جو جواب حضرت معاویہ بن حیدہ کو دیا ہے وہ اس روایت کے مخالف نہیں جو پہلے مسئلہ کی تائید میں پیش کی گئی ہے۔یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تنہائی میں نگا نہانے کی روایت کے اور شارحین کا یہ خیال بالکل صحیح ہے۔آنحضرت ﷺ اس وقت حضرت معاویہ بن حیدہ کو شرم و حیا کے متعلق تلقین فرما رہے تھے۔سیاق کلام کا مقتضی یہی تھا کہ آپ ان کو یہی جواب دیتے خصوصاً جبکہ ان کا رجحان طبیعت اس طرف تھا کہ نگا ہونے کے متعلق کچھ اور استثناء کر کے سہولت حاصل کی جائے۔نبی ﷺ ان کو بیوی اور ملک یمین کے متعلق اجازت دے چکے تھے۔وہ پوچھتے ہیں کہ جب لوگ اکٹھے مل جل کر رہتے ہوں تو شدت گرمی وغیرہ کی وجہ سے بعض وقت کپڑے اتارنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ایسے موقع پر احتیاط کرنی مشکل ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا: جہاں تک ہو سکے احتیاط کرو۔پھر وہ خلوت کے متعلق تیسری دفعہ سوال کرتے ہیں حالانکہ آنحضرت ﷺ ان کو پہلے جواب دے چکے ہیں: إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ۔اس رجحان طبیعت کا اندازہ کر کے آپ نے کیا ہی پیارے الفاظ میں فرمایا: فاللهُ اَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ - الله زیادہ حق رکھتا ہے کہ لوگوں کی نسبت اس سے شرم کی جائے۔آپ نے اپنے مخاطب کی طبیعت کا صحیح اندازہ کر کے اس کو حیا