صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xlii
صحيح البخارى ۲۲ دیباچه یورپ کے محققین کو بھی اعتراف ہے کہ ان علماء نے راویوں کی جانچ پڑتال میں انتہائی طاقت صرف کی اور ایسے معیار تجویز کئے کہ ان سے بڑھ کر صادق اور کاذب کے درمیان تمیز کرنے کا کوئی معیار تصویر میں نہیں لایا جا سکتا۔ان متقدمین کے ثمرات محنت و کاوش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چھٹی، ساتویں، آٹھویں اور نویں صدی میں علامہ محب الدین بغدادی، امام ابن جوزی، امام ابن حجر عسقلانی اور ذہبی نے فن اسماء الرجال میں مستقل اور مضخیم کتابیں تصنیف کیں۔رجال کی ترتیب قائم کی اور حدیثوں کے جانچنے کے اصول وضع کئے۔امام بخاری نے بھی تاریخ کبیر اور تاریخ صغیر اسی غرض سے لکھی۔خلاصہ ان کی تحقیق و تمحیص کا یہ ہے کہ کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت کے معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے اصول روایت و درایت کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔خلاصہ اصول روایت : اصول روایت کے ماتحت دیکھا جائے کہ آیا روایت کرنے والا اور سنے والا دونوں ثقہ ہیں اور یہ کہ پہلا راوی جو واقعہ بیان کرتا ہے وہ خود اس واقعہ کے وقت موجود تھا یا نہیں اور یہ کہ وہ واقعہ اس کی اپنی دید ہے یا شنید اور آیا اس کے ساتھ کوئی ایسی شہادتیں موجود ہیں جن سے اس کی روایت کی تصدیق ہوتی ہوا اور یہ کہ دونوں روایت کرنے والے ہم عصر بھی ہیں یا نہیں اور آیا ایک دوسرے سے انہوں نے ملاقات بھی کی ہے اور اس ملاقات کا ثبوت بھی بہم پہنچا ہے یا نہیں۔نیز یہ بھی دیکھا جائے کہ سلسلہ روایت متصل ہے اور کہیں سلسلہ روایت ٹوٹا تو نہیں اور یہ کہ راوی کو بظا ہر متقی و پرہیز گار ہے۔مگر کوئی غرض اس کے مدنظر تو نہ تھی۔مثلاً وہ کسی خاص مذہب کی تائید میں یا کسی مذہب سے تعصب رکھتے ہوئے روایت کرتا ہو۔اصول درایت اصول درایت کے ماتحت یہ دیکھا جائے کہ مضمون روایت فی نفسہ اسلام کے اصولی عقائد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن متواترہ کے مطابق ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ بیان کردہ واقعہ کی تائید معتبر شواہد تاریخیہ سے بھی ہوتی ہے یا نہیں؟ اور آیا کہیں راوی کو اس بات یا واقعہ کے سمجھنے یا دیکھنے میں غلطی تو نہیں لگی؟ اور جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ مفصل ہے یا مجمل اور اگر کسی اور سند سے جو زیادہ قابل اعتبار اور صحت کے قریب ہے کسی روایت کی تکذیب ہوتی ہو تو ایسا راوی اور اس کی روایت دونوں ساقط الاعتبار سمجھے جائیں گے۔بعض ائمہ نے جن میں سے امام ابن جوزی بھی ہیں احادیث کے پر کھنے کے بارے میں یہاں تک احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے کہ محض کسی راوی کے تقوی و تورع سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے اور نہ اس سے کہ وہ اپنی روایت میں کسی صحابی کا نام لیتا ہے۔بلکہ اگر روایت خلاف عقل اور خلاف اصول ہے تو جان لو کہ وہ موضوع ہے۔اس کے راویوں کے متعلق جرح اور تعدیل اور جانچ پڑتال کی بھی ضرورت نہیں یا اگر روایت میں کوئی ایسا بیان ہو جوحس اور مشاہدہ کے برخلاف ہے یا قرآن مجید کے نصوص یا اجماع قطعی کے مخالف ہے اور اس میں کسی قسم کی معقول تاویل کام نہ دیتی ہو۔یا کوئی ایسی روایت ہو جس میں معمولی معمولی بات پر سخت عذاب کی دھمکی دی گئی ہو۔یا کسی حقیر اور ادنی عمل کو اس طرح بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا ہو کہ اس پر بڑے بڑے ثواب اور انعام و اکرام مترتب کئے گئے ہوں تو وہ رڈ کر دینے کے قابل ہوگی۔ایسی روایتیں بازاری قصہ گوؤں کے کلام میں بکثرت پائی جاتی ہیں جو قطعاً قابل اعتبار نہیں ہوتیں۔اسی طرح اگر ایک شخص واحد ایسے