صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 358 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 358

صحيح البخاری جلد ا ۳۵۸ ۵- كتاب الغسل صلى الله عروسه جواب دینے کے یہ معنی ہیں کہ پہلے یہ فرض کر لیا جائے کہ سب عورتیں حالت طہر میں تھیں ۔ ان میں سے کوئی بھی حائضہ نہ تھی۔ پھر اس کے ساتھ طَافَ فِي نِسَائِہ کے معنوں کو جماع کے معنوں میں محدود کرنا ہوگا۔ اور تمام عورتوں کو شامل کرنا ہوگا اور اگر سبھی کو شامل کیا جائے تو اس کے ساتھ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنھا سے بھی آپ نے اس رات مباشرت کی تھی جو بوجہ بڑھاپے کے ناقابل ہو چکی تھیں ۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی فرض کرنا ہو گا کہ آپ سے دریافت کیا گیا تھا اور آپ نے بتلایا تھا کہ میں نے سب کے ساتھ مباشرت کی ہے۔ یہ سب باتیں دُور از قیاس ہیں۔ طبعی حیا اس قسم کے سوال کرنے اور جواب دینے سے مانع ہوتی ہے۔ چنانچہ اسی امر کی طرف اشارہ کرنے کے لیے امام بخاری نے تیرھواں باب باندھا ہے۔ جس میں بتلایا ہے کہ صحابہؓ کو اپنے متعلق خاص اور ضروری مسائل پوچھنے سے بھی شرم مانع ہوتی تھی ۔ وہ نبی کے متعلق ایسے مسائل پوچھنے پچھوا۔ چھنے پچھوانے پر کیسے جرات کر سکتے تھے ۔ اس باب کے بعد چودھواں باب قائم کر کے حضرت عائشہ کی سابقہ روایت کا اعادہ کیا ہے۔ اور اس روایت سے جو مسئلہ اخذ کیا جا سکتا تھا اس کو عنوان باب میں واضح کر کے دکھلایا ہے۔ تاکہ قارئین پر ظاہر ہو جائے کہ اصل موضوع روایت کیا تھا اور لوگ کسی بحث میں پڑ گئے ۔ بارھویں باب کے عنوان میں اِذَا جَامَعَ ثُمَّ عَادَ کہہ کر مطلق اعادہ جماع کا ذکر کیا ہے۔ یعنی اس روایت میں اگر طواف کے معنی جماع کے ہی کئے جائیں تو زیادہ سے زیادہ جو بات ثابت ہوتی ہے، وہ مطلق اعادہ جماع ہے۔ باقی رہا یہ امر کہ وَمَن دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ تو روایت کے الفاظ سے واضح ہے کہ حضرت عائشہ کی روایت میں اس کے متعلق بحث ہی نہ تھی اور حضرت انس کی روایت میں بھی عمومیت کا رنگ ہے۔ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۔ رات کو بھی اور دن کو بھی ایک ہی وقت میں آپ اپنی بیویوں کے پاس جایا کرتے تھے۔ دوسری روایتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا یہ جانا ان کی خبر گیری کرنے اور بازار سے سودا وغیرہ لانے اور دیگر ضروریات زندگی پورا کرنے کی غرض سے تھا۔ قتادہ، حضرت انس سے پوچھتے ہیں: أَوَ كَانَ يُطِيقُهُ۔ کیا آپ ایسا کر سکتے تھے یعنی ہر روز ، دن کو بھی اور رات کو بھی ، با وجود مصروفیت کے تمام بیویوں کے پاس جاکر ان کے کام کاج کریں۔ حضرت انس نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ آپ کو تمیں آدمیوں کی طاقت دی گئی تھی۔ یعنی آپ ان فرائض منزلیہ کو آسانی سے نبھاتے تھے۔ كُنَّا نَتَحَدَّثُ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نبی علی کی طاقت کی طاقت کے متعلق آپس میں یہ گفتگو کیا کرتے تھے یعنی کہ آپ تھیں جوانوں کی قوت رکھتے ہیں۔ حضرت انس کی روایت در حقیقت بالکل عمومیت کا رنگ رکھتی ہے اور حضرت عائشہ کی روایت کا تعلق بھی ایک خاص واقعہ کے ساتھ ہے۔ صبح آپ نے حج یا عمرہ کے لیے مکہ معظمہ جانا تھا۔ رات اپنی بیویوں کے پاس گئے تاکہ ان سے رخصت ہوں اور حضرت عائشہ کے الفاظ سے کنایہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بعض بیویوں کے ساتھ مباشرت بھی کی۔ آپ اس وقت سفر پر جارہے تھے اور یہ فعل طبعی تھا کہ آپ ایسا کرتے۔ لیکن ان روایتوں سے یہ اخذ کرنا صحیح نہیں کہ آپ کا یہ ہمیشہ دستور العمل تھا اور یہ کہ آپ تمام بیویوں سے ایک ہی رات میں مباشرت کیا کرتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ جو مسئلہ اخذ کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے: إِذَا جَامَعَ وَعَادَ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ یعنی اعادة جماع کے لیے غسل ضروری نہیں۔