صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 359
صحيح البخاری جلد ا ۳۵۹ ۵- كتاب الغسل باب ١٥ تَخْلِيْلُ الشَّعَرِ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ عَلَيْهِ بالوں میں خلال کرنا یہاں تک کہ جب سمجھے کہ اس نے اپنی جلد کو اچھی طرح تر کر لیا ہے تو ( پھر ) اس پر پانی بہادے ۲۷۲ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا :۲۷۲ ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: ہشام بن عروہ نے ہم أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ سے بیان کیا۔انہوں نے اپنے باپ سے۔ان کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ كَرَ رسول اللہ ﷺ جب جنابت کی وجہ سے غسل الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ وَ تَوَضَّأَ وُضُونَهُ فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے اور وضو کرتے لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اغْتَسَلَ ثُمَّ يُخَلَّلُ بِيَدِهِ شَعَرَهُ جس طرح کہ نماز کے لیے وضو کیا کرتے۔اس کے حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ بعد نہاتے پھر اپنے ہاتھ سے اپنے بالوں کا خلال کرتے ، یہاں تک کہ جب سمجھتے کہ آپ نے اپنی جلد عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ اچھی طرح تر کر لی ہے تو آپ اس پر تین بار پانی بہاتے۔پھر اپنا ( باقی ماندہ ) سارا جسم دھوتے۔جَسَدِهِ اطرافه: ٢٤٨، ٢٦٢۔۲۷۳: وَقَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا ۲۷۳: اور (حضرت عائشہ) کہتی تھیں کہ میں اور وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَّاحِدِ نَغْرِفُ مِنْهُ جَمِيْعًا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے نہایا کرتے ہم اکٹھے ہی اس سے پانی چلو بھر بھر کر لیا کرتے تھے۔اطرافه ۲۵۰، ۲۶۱ ، ۲۶۳، ۲۹۹، ٥٩٥٦، ۷۳۳۹۔تشریح: تَخْلِيلُ الشَّعَرِ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ : جس بناء پر نسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی لینے کے متعلق اختلاف ہوا ہے اسی بناء پر بالوں میں خلال کرنے کے متعلق بھی اختلاف ہے یعنی آیا یہ فعل نسل میں واجب ہے یا مستحب یعنی پسندیدہ۔اور یہ کہ سر پر پانی بہا دینا ہی کافی ہے یا اسے اچھی طرح دھونا چاہیے۔نبی ﷺ سے یہ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: تَحْتَ كُلَّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَاتَّقُوا البَشَرَ۔(ترمذی ابواب الطهارة۔باب ماجاء ان تحت كل شعرة جنابة) یعنی ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے۔اس لیے بالوں کو دھو اور جلد اچھی طرح صاف کرو۔جنہوں نے یہ روایت صحیح قرار دی ہے ان کے نزدیک غسل جنابت میں بال اچھی طرح تر کرنا واجب ہے۔(اس اختلاف کی تفصیل کے لیے