صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 357 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 357

صحيح البخاری جلد ا ۳۵۷ ۵- كتاب الغسل میں نقل کی گئی ہیں۔اور دوسرا جملہ جو مسن سے شروع ہوتا ہے، اس کا موضوع ایک اختلاف ہے جو فقہاء کے درمیان ہوا۔جہاں تک نفس مسئلہ کا تعلق ہے۔شریعت کا حکم نہایت واضح ہے۔لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ۔۔۔۔۔جُنَّبًا۔۔۔۔۔حَتَّى تَغْتَسِلُوا۔(النساء: ۴۴) یعنی جنبی ہونے کی حالت میں جب تک تم نہانہ لو، نماز کے قریب نہ جاؤ۔یعنی جنبی کو عبادت سے روکا گیا ہے۔باقی کام کر سکتا ہے۔بغیر نہانے کے اپنی بیوی سے دوبارہ بھی مباشرت کر سکتا ہے۔وَمَنْ دَارَ عَلَى نِسَآئِهِ فِى غُسُلٍ وَاحِدٍ : امام موصوف نے اس ضمن میں ایک خاص بات کی طرف اشارہ کیا ہے ، جو آنحضرت ﷺ کے متعلق مروی ہے۔یعنی یہ کہ آپ اپنی تمام بیویوں کے پاس جایا کرتے تھے اور اس کے بعد نہایا کرتے تھے۔امام موصوف نے اس روایت کی اصلیت پر تین بابوں میں نہایت خوبی سے روشنی ڈالی ہے۔بارہویں باب میں سب سے پہلے حضرت عائشہ کی اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جو مذکورہ بالا خیال کی اصل بناء ہے۔یہ روایت چودھویں باب میں ذرا تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے ذکر کیا کہ حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ صبح کو احرام باندھوں اور خوشبو سے مہک رہا ہوں۔یعنی رات کو خوشبو وغیرہ لگا کر بیوی کے پاس جاؤں اور صبح حج جیسے مقدس عمل کو بجالانے کی تیاری کروں۔اس پر حضرت عائشہ نے وہ جواب دیا جو روایت نمبر ۲۶۷ میں مذکور ہے۔روایت نمبرہ ۲۷ کے الفاظ قابلِ غور ہیں : انا طيبتُ رَسُولَ اللهِ الله ثُمَّ طَافَ فِي نِسَائِہ۔یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی اور پھر وہ اپنی بیویوں کے پاس گئے۔روایت نمبر ۲۶۷ میں یہ الفاظ ہیں: كُنتُ أطَيِّبُ رَسُولَ اللهِ الا الله فَيَطُوفُ یعنی میں خوشبو لگایا کرتی تھی۔ان دونوں روایتوں میں سے روایت نمبر ۲۷۰ کے الفاظ صحت وضبط کے زیادہ قریب ہیں۔کیونکہ آنحضرت علی یا علی صرف ایک بار عمرہ کے لیے اور ایک بارحج کے لیے نکلے۔مگر روایت نمبر ۲۶۷ کے الفاظ سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ گویا نبی عموما ایسا کیا کرتے تھے اور یہ صحیح نہیں۔صرف ایک حج کے موقع پر آپ اپنی بیویوں کے پاس گئے۔إِنْ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ تِسْعُ نِسْوَةٍ: دوسری روایت حضرت انسؓ سے دوسندوں کے ساتھ مروی ہے۔ایک سند میں گیارہ بیویوں کا ذکر ہے اور دوسری میں نو کا اور نو کی تعداد درست ہے اور اسی وجہ سے امام موصوف نے سعید بن ابی عرو بہ کا حوالہ دیا ہے۔(تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۹۰) آپ نے شاھ میں حج کیا تھا۔اس وقت آپ کی نو بیویاں تھیں۔اور عمرہ کے چھ میں کیا تھا اور اس وقت آپ کی دس گیارہ بیویاں تھیں۔تعداد کو اگر مدنظر رکھا جائے تو یہی بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ جس واقعہ کی طرف حضرت عائشہ اشارہ کرتی ہیں وہ حج کا موقع ہے۔رات کو آپ خوشبو لگانے کے بعد اپنی بیویوں کے پاس گئے اور صبح آپ نے احرام باندھا۔حضرت عائشہ کے الفاظ سے یہ ہرگز معلوم نہیں ہوتا کہ آپ نے اپنی سب بیویوں کے ساتھ مباشرت کی، اور نہ حضرت عائشہ کا یہ مقصد ہے۔وہ صرف کنایہ یہ بتلا رہی ہیں کہ حضرت ابن عمرہ کا زاہدانہ خیال شریعت کے حکم اور نبی ﷺ کی سنت پر مبنی نہیں، بلکہ آپ نے صبح احرام باندھا اور اس سے قبل اپنی بیویوں کے پاس گئے۔رہا یہ سوال کہ تمام بیویوں کے ساتھ آپ نے مباشرت کی ہوگی۔اس کے متعلق