صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page xli of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xli

صحيح البخاري ۲۱ دیباچه حمایت میں موضوعہ اور غیر موضوعہ روایتوں کی آڑ لی اور اپنے لئے مسندیں اور مجموعے تیار کئے۔عراق خصوصاً بصرہ اس وقت ان مذاہب کا مرجع تھا۔جہاں شیعہ رافضی ، خوارج، معتزلہ، کرامیہ، مرجہ اور زنادقہ روایتوں کے گھڑنے میں کھلے بندوں مشغول تھے۔ان سب آفتوں کی آفت متصوفین کا وہ گروہ تھا جس نے کسی نیک بات کی ترغیب یا بری بات سے ترہیب کی خاطر اچھی بری روایتیں وضع کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف انہیں نسبت دینا اپنا جائز حق سمجھا ہوا تھا۔جیسا کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب التقريب والتيسير میں فرماتے ہیں: يُحْرَمُ الرِّوَايَةُ مَعَ الْعِلْمِ بِهِ فِي أَي معنى كان إِلَّا بَيِّنًا، وَيُعْرَفَ الْوَضْعُ بِاقْرَارِ وَاضِعِهِ أَوْ مَعْنَى اقْرَارِهِ، أَوْ قَرِيْنَةٌ فِي الرَّاوِي أَوِ الْمَرْوِيَ فَقَدْ وُضِعَتْ أَحَادِيثِ يَشْهَدُ بِوَضْعِهَا رُكَاكَةُ لَفْظِهَا وَمَعَانِيهَا۔۔۔۔وَالْوَاضِعُونَ أَقْسَامٌ أَعْظَمُهُمْ ضَرَرًا قَوْمٌ يَنْسِبُونَ إِلَى الزُّهْدِ وَضَعُوْهُ حِسْبَةً فِي زَعْمِهِمْ فَقُبِلَتْ مَوْضُوعَاتُهُمْ ثِقَةٌ بِهِمْ وَجَوَزَتِ الْكَرَامِيَّةُ الْوَضْعَ فِي التَّرْغِيْبِ وَالتَّرْهِيبِ، وَهُوَ خِلَافَ إِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ الَّذِيْنَ يَعْتَدُّ بِهِمْ، وَوَضَعَتِ الزِّنَادِقَةُ جُمَلاً۔۔۔۔۔التقريب للنووى۔أقسام الحديث النوع الحادي والعشرون الموضوع متصوفہ اور واعظین کا یہ گروہ بے دھڑک روایتیں گھڑ لیا کرتا تھا۔تدریب الراوی لے میں المؤمل بن اسماعیل سے ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے۔کسی شیخ نے ان کو براویت حضرت ابی بن کعب قرآن مجید کی سورتوں کے فضائل مرفوعا بتلائے جس پر اس سے سند دریافت کی گئی تو اس نے مدائن کے ایک راوی کا پتہ دیا۔امام موصوف وہاں پہنچے تو اس نے بصرہ کے ایک راوی کا پتہ دیا۔پھر وہ بصرہ پہنچے۔بصرہ والے راوی سے پتہ چلا کہ اصل راوی ایک زاہد صوفی بزرگ ہیں جو عبادان میں رہتے ہیں۔چنانچہ امام موصوف وہاں پہنچے اور اس صوفی سے ملاقات کی۔یہ بزرگ امام موصوف کو ایک اور بزرگ کے پاس لے گئے جنہوں نے ان کو بتلایا کہ یہ روایت ان کی خود ساختہ ہے۔چونکہ لوگ قرآن مجید کی طرف توجہ نہیں کرتے اس لئے انہیں تحریص و ترغیب دلانے کی خاطر یہ حدیث وضع کی گئی ہے۔(تدريب الراوى۔النوع الحادى والعشرون اقسام الوضاعين۔جزء اول صفحه ۳۸۸) اس سے جہاں بعض متصوفین کی روایات کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے وہاں اس راہ میں امام موصوف اور آپ جیسے دیگر محققین کی مشکلات کا اندازہ بھی آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔فن اسماء الرجال کی پیدائش : روایتوں کے اس سیلاب مواج کو دیکھ کرسب سے پہلے کئی بن سعید القطان اور ابن المدینی کو جو اعلیٰ درجہ کے نقاد مانے گئے ہیں اور ان کے بعد تحصیلی ، احمد بن عبد الجلی ( تیسری صدی کے وسط میں) امام عبدالرحمن بن حاتم ( چوتھی صدی کے ابتداء میں ) اور ابن عدی جیسے علمائے کرام کو فکر لاحق ہوئی اور انہوں نے نہایت محنت سے فن اسماء الرجال کی بنیاد ڈالی جس کا اسپینگر جیسے تدریب الراوی امام جلال الدین سیوطی کی کتاب ہے جس میں انہوں نے تقریب کی شرح لکھی ہے۔مشار الیہ واقعہ گو با عتبار سند قابل تحقیق ہو، مگر حقیقت حال کی صحیح تصویر ہے۔کرامیہ، زنادقہ اور بعض متصوفین نیک غرض کے لئے حدیث وضع کرنا جائز سمجھتے تھے۔(تدریب الراوى۔النوع الحادى والعشرون اقسام الوضاعين جزء اول صفحه ۲۸۳)