صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 347
صحيح البخاری جلد ا بَاب : الْمَضْمَضَةُ وَالْإِسْتِنْشَاقُ فِي الْجَنَابَةِ جنابت میں کلی کرنا اور ناک میں پانی لینا ۵- كتاب الغسل ٢٥٩ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ :۲۵۹ ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا کہا: میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے الْأَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ كُرَيْبِ ہمیں بتلایا ،کہا: سالم نے مجھے بتلایا۔انہوں نے عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَتْنَا مَيْمُوْنَةُ کریب سے۔کریب نے حضرت ابن عباس سے قَالَتْ صَبَبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی۔انہوں نے کہا : حضرت میمونہ نے ہمیں بتلایا۔وہ کہتی تھیں : میں نے نبی عے کے لیے نہانے وَسَلَّمَ غُسْلًا فَأَفْرَغَ بِيَمِيْنِهِ عَلَى يَسَارِهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ کا پانی برتن میں ڈالا تو آپ نے اپنے دائیں ہاتھ عَلَى الْأَرْضِ فَمَسَحَهَا بِالتُّرَابِ ثُمَّ سے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور انہیں دھویا۔پھر اپنی شرم گاہ دھوئی۔پھر اپنا ہاتھ زمین پر رکھا اور مٹی سے اسے ملا اور اس کو دھویا۔پھر کلی کی اور ناک میں پانی غَسَلَهَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَأَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ لیا۔پھر اپنا چہرہ دھویا اور اپنے سر پر پانی بہایا پھر ایک تَنَجَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِمِنْدِيْلٍ فَلَمْ طرف ہو گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔پھر ایک يَنْقُضْ بِهَا۔رو مال لایا گیا تو آپ نے اس سے نہیں پونچھا۔اطرافه ٢٤٩، ٢٥٧، ٢٦٠، ٢٦٥، ٢٦٦، ٢٧٤، ٢٧٦، ٢٨١۔تشریح الْمَضْمَضَةُ وَالْاِسْتِشَاقُ فِى الْجَنَابَةِ: ساتویں باب میں امام موصوف نے پھر حضرت میمونہ کی وہی روایت دُہرائی ہے جو پانچویں باب اَلْغُسُلُ مَرَّةً وَاحِدَةً میں لائے تھے اور اس سے یہ بتلایا ہے کہ غسل جنابت کرتے وقت آپ چھوٹے چھوٹے عضو بھی صاف کیا کرتے تھے۔یہ تکرار بتلاتا ہے کہ ان تین بابوں کا آپس میں تعلق ہے۔قارئین اس تکرار میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ سند مختلف ہے۔پہلی روایت موسیٰ بن اسماعیل اور عبدالواحد سے مروی ہے اور یہ عمر بن حفص اور ان کے باپ سے۔اور اسی وجہ سے مضمون میں کچھ زیادتی ہے۔یعنی یہ کہ آپ کے پاس پونچھنے کے لیے رومال لایا گیا۔مگر آپ نے اس سے نہیں پونچھا۔اس سے امام موصوف نے رومال سے پونچھنے کے متعلق کوئی نیا مسئلہ اخذ نہیں کیا بلکہ الْمَضْمَضَةُ وَالْإِسْتِشَاقُ فِى الْجَنَابَةِ کا عنوان قائم کیا ہے اور یہ صرف اس لیے کیا ہے کہ الْغُسُلُ مَرَّةً وَّاحِدَةً سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ آپ جسم کے اعضاء نہیں دھویا کرتے تھے۔