صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 346
صحيح البخاری جلد ا ۵- كتاب الغسل اس بارے میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا خیال درست معلوم ہوتا ہے کہ حلاب بیجوں کا نقوع یعنی خیساندہ ہے جو عرب لوگ نہاتے وقت بدن پر ملا کرتے تھے۔ (رسالہ شرح تراجم ابواب سحیح البخار راب صحیح البخاری - کتاب الغسل ۔ باب من بدء بالحلاب ) حلبه : عربی میں ایک درخت کا نام ہے۔ اس کے بیج زرد رنگ کے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ آیا اس کے بیج اس غرض کے لیے استعمال بھی ہوتے ہیں یا نہیں ۔ عربی میں غسول اور غسول ہر ایسے خیساندہ وغیرہ کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے بدن اور کپڑوں سے میل دور کی جائے۔ (لسان العرب تحت لفظ غسل ) صلى الله امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بِالْحِلَابِ أَوِ الطَّيبِ کہہ کہہ کر کر قار قارئین کو اس غلطی سے بچانا چاہتے ہیں جو امام مسلم وغیرہ کو لفظ مذکور کے معنی سمجھنے میں لگی ہے۔ یعنی جلاب سے مراد برتن نہیں ہے بلکہ وہ ایک خوشبودار خیساندہ تھا جو نہانے میں استعمال کیا جاتا تھا۔ بعض شارحین دوسری روایتوں کی بناء پر جلاب کے معنی خوشبو ہی سمجھے ہیں جو آنحضرت علی عام طور پر نہانے کے بعد لگایا کرتے تھے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۷۹-۴۸۱) مگر یہ وہ خوشبو نہیں جو بعد میں لگائی جاتی ہے۔ مَنْ بَدَا کہہ کر امام موصوف نے ان لوگوں کے اس خیال کی تردید کی ہے اور بتلایا ہے کہ یہ چیز نہاتے وقت شروع میں استعمال کی جاتی تھی۔ دَعَا بِشَيْءٍ نَّحْوَ الْحِلَابِ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف حلاب ہی نہیں استعمال کیا جاتا تھا بلکہ اس قسم کی اور اشیاء بھی۔ یعنی خطمی اشنان وغیرہ ۔ فَأَخَذَ بِكَفہ کے الفاظ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حلاب سے مراد برتن نہیں بلکہ نہانے کا وہ خاص پانی ہے جو آپ ہتھیلی میں لے کر پہلے جسم کا داہنا کا داہنا حصہ دھوتے اور پھ اور پھر بایاں حصہ اور پھر دونوں ہاتھوں میں لے کر سر دھوتے ۔ فَقَالَ بِهِمَا عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ۔ قَالَ کا فعل اپنے معنوں میں نہایت وسیع ہے۔ یہ ہر فعل کا قائم مقام ہو سکتا ہے۔ (لسان العرب تحت لفظ قال ) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ باب اور اس کے بعد کے ابواب اس غرض سے باندھے ہیں تاکہ أَفَاضَ ، أَفْرَغَ اور صب وغیرہ سے قارئین یہ نہ سمجھ لیں کہ نبی ﷺ کا نسل صرف اسی قدر تھا کہ سر اور بدن پر دو تین دفعہ پانی بہا لیتے جیسا کہ بعض لوگوں نے روایتوں کے مختصر الفاظ سے یہ سمجھ کر بحث اٹھائی ہے کہ کیا غسل میں بھی وضو کی طرح اعضاء کا دھونا شرط ہے یا نہیں۔ (تفصیل کیلئے دیکھئے بداية المجتهد كتاب الغسل۔ الباب الأول في معرفة العمل في هذه الطهارة۔ المسئلة الاولى۔ جلد اول صفحہ ۴۲) پہلا باب الْغُسْلُ مَرَّةً وَاحِدَةً بھی اسی غرض کے لیے قائم کیا تھا اور بعد کے بابوں میں بھی یہی تفصیلی بحث ہے