صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 348
صحيح البخاری جلد ا بَاب : مَسْحُ الْيَدِ بِالتُّرَابِ لِتَكُوْنَ أَنْقَى مٹی سے ہاتھ ملنا تا کہ زیادہ صاف ہو جائے ۵- كتاب الغسل ٢٦٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ :۲۶۰ ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، الْحُمَيْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ کہا: سفیان نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ اعمش نے ہمیں بتلایا۔اعمش نے سالم بن ابی جعد سے۔سالم نے کریب سے۔کریب نے حضرت ابن عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ عباس سے۔حضرت ابن عباس نے حضرت میمونہ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَ نے روایت کی کہ نبی ﷺ نے غسل جنابت کیا اور مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ دَلَكَ اپنی شرم گاہ کو اپنے ہاتھ سے دھویا اور پھر ہاتھ دیوار بهَا الْحَائِط ثُمَّ غَسَلَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ سے رگڑا۔پھر اسے دھویا۔اس کے بعد آپ نے وضو وُضُوئَهُ لِلصَّلَاةِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ کیا جیسا کہ آپ نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے۔جب اپنے غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنے غَسَلَ رِجْلَيْهِ۔دونوں پاؤں دھوئے۔اطرافه ،۲۹ ،۲۵۷ ۲۵۹، ٢٦٥، ٢٦٦، ٢٧٤، ٢٧٦، ۲۸۱ تشریح : مَسْحُ الْيَدِ بِالتُّرَابِ : آٹھویں باب میں بھی یہی بات واضح کی گئی ہے کہ آپ ہاتھ مٹی پر رگڑتے تا وہ خوب صاف ہو جائے یعنی آپ کو بدن کی صفائی ملحوظ ہوتی اور اس باب میں پھر وہی روایت دہرائی گئی ہے، مگر حمیدی اور سفیان بن عیینہ کی سند کے ساتھ۔باب ۹ هَلْ يُدْخِلُ الْجُنُبُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى يَدِهِ قَذَرٌ غَيْرُ الْجَنَابَةِ کیا جنسی اپنا ہاتھ پیشتر اس کے کہ اس کو دھوئے برتن میں ڈالے بشرطیکہ اس کے ہاتھ پر جنابت کے سوائے کوئی اور آلائش نہ ہو وَأَدْخَلَ ابْنُ عُمَرَ وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ حضرت ابن عمرؓ اور حضرت براء بن عازب نے اپنا يَدَهُ فِي الطَّهُوْرِ وَلَمْ يَغْسِلْهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ ہاتھ وضو کے پانی میں ڈالا اور انہوں نے اس کو نہیں