صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page xl
صحيح البخاري ۲۰ دیباچه راویوں میں سے ہیں۔ پہلے طبقہ میں سے ہونا امام بخاری کی شرطوں میں سے ایک اہم شرط ہے اور ان کی روایات کا دار و مدار اکثر اسی طبقہ اولیٰ پر ہے اور ایسی روایتیں کم ہیں جن کا تعلق طبقہ ثانیہ سے ہو اور اس طبقہ کی روایتیں نقل کرنے کے متعلق یہ مزید احتیاط برتی ہے کہ انہیں بطور تعلیق کے نقل کیا ہے اور شاذ و نادر ہی طبقہ ثالثہ سے روایتیں اخذ کی ہیں جنہیں نہ صرف بطور تعلیق کے نقل کیا ہے بلکہ ان کے متعلق اور احتیاطیں بھی برتی ہیں۔ جیسے قرآن مجید اور سنت نبویہ کے ساتھ تطبیق دینے کی ۔ طبقہ ثالثہ میں جعفر بن برقان ، سفیان بن حسین اور اسحاق بن یمی کلبی جیسے لوگ ہیں۔ جن کے متعلق یہ تو ثابت ہے کہ وہ زہری سے ملے مگر یہ ثابت نہیں کہ انہیں ان کے ساتھ رہنے کا موقع بھی ملا۔ یہ طریق ان رواۃ کے متعلق اختیار کیا گیا ہے جن سے نافع ، اعمش اور قتادہ جیسے تابعین کی روایتیں بکثرت مروی ہیں۔ لیکن جن تابعین سے روایتیں کم مروی ہوئی ہیں ان کے متعلق طبقات ثلاثہ میں سے اس اصل کو مد نظر رکھا ہے کہ وہ ثقہ ہونے کی تمام شروط اپنے اندر رکھتے ہوں اور ان کے متعلق بھول چوک کا احتمال کم ہو۔ جیسے یحییٰ بن سعید انصاری اور اس پر مزید احتیاط یہ اختیار کی ہے کہ ان مؤخر الذکر راویوں کی صرف وہی روایتیں قبول کی ہیں کہ جن کے روایت کرنے میں دوسرے ثقہ راوی بھی شریک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس غایت درجہ کی احتیاط اختیار کرنے میں امام موصوف اپنے تمام ساتھیوں پر سبقت لے گئے ہیں۔ (هدى السارى مقدمة فتح البارى۔ الفصل الثانى فى بيان موضوعه۔ صفحه ۱۰-۱۲) مشکلات کی کٹھن منزل : شیخ الاسلام احمد بن علی بن حجرعسقلانی رحمۃاللہ علیہ نے ان راویوں کی تقسیم بلحاظ مراتب کے کی ہے۔ جس کا خلاصہ اپنے مقام پر دیا جائے گا۔ اس جگہ جس بات کی علی انبه طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ امام موصوف کو احادیث کے پرکھنے میں جرح وقدح اور نقد و تعدیل کے بہت قوی اور مضبوط اصول تجویز کر کے ان اصول کو انہی روایات پر چسپاں کرنے میں بہت بڑی محنت برداشت کرنی پڑی ہے۔ اس کا اندازہ اول تو اسی امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ چھ لاکھ روایتوں میں سے صرف تین چار ہزار کے قریب قبول کی ہیں۔ ثانیاً تیسری صدی ہجری کے حالات پر نظر رکھنے سے بھی ان کی محنت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ زمانہ اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور پیشگوئی خَيْرُ اُمَّتِی قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمُ (بخارى كتاب المناقب باب فضائل اصحاب النبي ال روایت نمبر : ۳۶۵۰) کے مطابق نسبتاً اچھا زمانہ تھا اور تال نا نسبتاً اچھا زمانہ تھا اور تابعین اس میں میں بکثرت پائے جاتے تھے۔ جس ورثہ امانت کو صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح ارشاد کے ماتحت لوگوں کو پہنچایا تھا۔ اس کو محفوظ رکھنے والے امین موجود تھے۔ مگر باوجود اس کے اس زمانہ میں کثرت سے روایتیں وضع بھی کی گئی ہیں اور روایت کرنے والوں کی اس قدر کثرت ہوگئی تھی کہ محققین کو پانچ لاکھ اشخاص کے حالات کی تحقیق میں سرگردان ہونا پڑا۔ صرف ایک سمرقند کے شہر میں چھ سو اور بصرہ کے شہر میں ایک ہزار کے قریب روایت کرنے والے موجود تھے۔ راویوں اور روایتوں کے اس سیلاب عظیم کے علاوہ یہ آفت بھی تھی کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ مذاہب در مذاہب پیدا ہوتے چلے گئے اور ہر مذہب نے اپنی مد ارشاد نبوی مذکوره بخاری کتاب العلم ۔ باب ۳۷: ليبلغ العلم الشاهد الغائب ۔ روایت نمبر ۱۰۴)