صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 340 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 340

حيح البخاري - جلد ا تشریح: بھائی تھے۔۳۴۰ ۵- كتاب الغسل ابو سلمہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھانجے تھے اور حضرت عائشہ کے بھائی سے مراد عبدالرحمن بن ابی بکر ہیں۔بعض کے نزدیک یہ طفیل بن عبد اللہ تھے جو اُن کی والدہ کی طرف سے ان کے اَلْغُسُلُ بِالصَّاعِ وَنَحْوِهِ : امام ابن حجر اور دیگر شارحین کا خیال ہے کہ امام بخاری نے روایت نمبر ۲۵ سے یہ استدلال کیا ہے کہ کم از کم کس قدر پانی سے غسل کیا جائے اور یہ شارحین اپنے اس خیال کی بناء جیسا کہ عنوان باب پر رکھتے ہیں ایسا ہی روایت نمبر ۲ ۲۵ پر بھی رکھتے ہیں، جس میں یہ ہے: سَأَلُوهُ عَنِ الْغُسُلِ فَقَالَ يَكْفِيكَ صَاعٌ۔یعنی حضرت جابر سے نہانے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: ایک صاع کافی ہوتا ہے۔مگر غور کرنے پر واضح ہوگا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ باب مذکور میں یہ مسئلہ استنباط نہیں کرنا چاہتے۔بلکہ ایک اور بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔عنوان باب میں الصاع کے بعد نخوہ کہہ کر قارئین کی توجہ اس طرف سے پھیرنا چاہتے ہیں، جس طرف شارمین گئے ہیں۔کیونکہ بِالصَّاعِ وَنَخوہ سے معین طور پر ہرگز معلوم نہیں ہو سکتا کہ نہانے میں پانی کی کم از کم مقدار صاع ہونی چاہیے یا اس سے کم و بیش۔علاوہ ازیں وہ اس سے ماقبل ایک روایت نقل کر چکے ہیں، جس میں فرق کا ذکر ہے جو تین صاع یعنی ۱۶ رطل ہوتا ہے۔پس امام بخاری رحمہ اللہ علیہ جیسے بعید النظر انسان کے متعلق یہ باور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایک طرف تو ایسی روایت کا ذکر کریں جس میں فرق سے نہانے کا ذکر ہو اور دوسری طرف معا ایک ایسی روایت لائیں جس میں صاع سے نہانے کا ذکر ہو اور پھر یہ دونوں روایتیں سامنے رکھتے ہوئے ان سے استدلال یہ کریں کہ کم از کم پانی کی مقدار صاع ہونی چاہیے اور عنوان یہ باندھیں : الغُسْلُ بِالصَّاعِ وَنَحْوِه۔اس باب کے عنوان کی بناء پر امام موصوف کی طرف یہ منسوب کرنا کہ نہانے کے بارے میں ان کا یہ مذہب ہے، درست نہیں۔خصوصا جبکہ وہ اپنا فتویٰ بَاب الْغُسْلُ وَالْوُضُوءُ فِي الْمِخْضَبِ وَالْقَدَح میں تفصیل کے ساتھ اس کے خلاف دے چکے ہیں۔(دیکھئے کتاب الوضوء باب ۴۵ - ۴۷ تشریح حدیث نمبر ۱۹۵ تا ۲۰۱) یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت کے مطابق کم و بیش پانی استعمال کیا کرتے تھے۔سات مشکوں سے بھی نہائے اور ایک صاع سے بھی۔یہاں اس باب کا مقصد یہ مسئلہ نہیں، بلکہ وہ مضمون ہے جو اس باب کی پہلی دوروایتوں میں ہے اور وہ یہ کہ صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا کمال شوق تھا۔جس کا اصل سبب یہ آیت تھی : قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ۔(ال عمران: ۳۲ ) یعنی کہو اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تم سے محبت رکھے گا۔اس لیے صحابہ رضی اللہ عنہم ہر بات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قدرہ اور امام یقین کرتے تھے اور انہیں اس بات کا ہمیشہ خیال رہتا کہ ان کا ہر عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق ہو، اس لیے وہ مسائل کی تحقیق کرتے۔دوسری روایت میں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ ابو جعفر ( محمد بن علی بن حسین بن علی ) کا قول ( مَا يَكْفِینِی ) سن کر ذرہ ناراض ہوئے اور انہوں نے کہا : كَانَ يَكْفِي مَنْ هُوَ أوفى مِنكَ شَعَرًا۔يعنی تین سیر پانی نہانے کے لیے کافی کیوں نہیں ہوتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو کافی ہو جاتا