صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 341 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 341

صحيح البخاری جلد ا ۳۴۱ ۵- كتاب الغسل تھا۔ حالانکہ ان کے بال بھی زیادہ تھے اور وہ تم سے بہتر تھے اور ہمارے امام تھے۔ غرض ان دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کو ہر بات میں اس امر کا خیال ہوتا تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و اللہ علیہ وسلم کے نقش پا پر چلیں ۔ یہ دو روایتیں لا کر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اسی باب میں ایک تیسری روایت لائے ہیں جس میں صرف یہ ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت میمونہ دونوں ایک ہی برتن سے نہایا کرتے تھے۔ اور اس روایت کے متعلق شارحین کہتے ہیں کہ عنوان باب سے اس کا بظاہر کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔ یعنی اس میں پانی کی مقدار کا کوئی ذکر نہیں ۔ حالانکہ اس روایت کو لا کر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس مضمون کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کی خاطر یہ سارا باب باندھا ہے اور جس کا تعلق سابقہ باب سے ہے : غُسلُ الرَّجُلِ مَعَ امْرَأَتِهِ۔ یعنی لوگوں کو شریعت کے اس واضح حکم کی تو پرواہ نہیں جس کے لیے آیت اِنْ كُنتُمْ جُنَّبًا فَاطَّهَّرُوا میں مرد اور عورت دونوں مخاطب کئے گئے ہیں۔ یعنی حالت جنابت میں دونوں نہا دھو کر پاک وصاف ہوں اور وہ ان بحثوں میں پڑ گئے ہیں کہ پانی تھوڑا ہو یا بہت۔ اصل چیز نظر انداز ہوگئی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا شوق تھا اور وہ ہر بات میں آپ کی پیروی کو مقدم سمجھتے تھے ۔ غرض باب مذکور کی کی دو روایتوں میں صحابہؓ کا اسوہ حسنہ پیش کر کے تیسری روایت : غُسْلُ الرَّجُلِ مَعَ امْرَأَتِهِ کا مضمون دہرا دیا ہے۔ صلى الله میں ابن وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمِ: تیری روایت میں یہ جو کہا ہے: وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ أَبُونُعَيْمِ اس سے امام موصوف کی یہ مراد ہے کہ ابو نعیم کی مذکورہ بالا روایت یوں شروع ہوتی ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ وَ مَيْمُونَةً كَانَا يَغْتَسِلَانِ۔ یعنی حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت میمونہ ایک ہی برتن سے نہایا کرتے تھے۔ مگر سفیان بن عیینہ آخری عمر میں یوں روایت کیا کرتے تھے: عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ عَنْ مَّيْمُونَةَ - جس کے یہ معنی ہیں کہ حضرت ابن عباس نے حضرت میمونہ سے مذکورہ بالا روایت نقل کی ہے۔ اس قول کی بناء پر یہ روایت حضرت میمونہ کی ہے اور ابو نعیم کے قول کے مطابق مطابق حضرت ابن ابن عباس عباس کی اور امام بخاری اس کو ترجیح دیتے دیتے ہیں ہیں، یعنی حضرت اب عباس نے آنحضرت رت سے یہ روایت نقل نقل کی کی ہے ہے ۔ ۔ ( ( فتح الباری ری جزء جزء اول ، صفحہ ۴۷۶ - عمدۃ رة القاری القاری جزء سوم، صفحه ۲۰۰) وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ : باب مذکور کی پہلی روایت پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ عورت کا مردوں کے سامنے نہانا شرم وحیا کے خلاف ہے۔ اس کا جواب خود اسی روایت میں ہے یعنی یہ کہ وہ پردے میں تھیں اور دوم یہ کہ وہ ان کے محرم بھائی تھے۔ سوم یہ کہ صاع کے متعلق لوگوں میں بحث معلوم ہوتی ہے کہ آیا اس قدر پانی سے انسان نہا سکتا ہے یا نہیں۔ جیسا کہ دوسری روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شکوک موجود تھے۔ حضرت عائشہ کی رائے حجت سمجھی جاتی تھی ۔ وہ د مسئلہ دریافت کرنے کے لیے آئے ۔ قرین قیاس یہ ہے کہ گرمی کی وجہ کی وجہ سے حضرت عائشہ کو نہانے کی بھی ضرورت ہو تو انہوں نے ایک صاع پانی سے نہا کر دکھلایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یوں نہایا کرتے تھے اور وہ پردے میں نہائیں ۔ جسم کو دھو کر اتنا پانی بچا بھی لیا کہ سر پر اسے بہایا۔ اس روایت سے یہ بتلانا مقصود نہیں کہ آپ صرف ایک صاع پانی نہانے میں استعمال کیا کرتے تھے۔ ایک صاع یعنی تین سیر پانی جس سے تین متوسط حجم کے لوٹے بھرے جاسکتے ہیں ۔ اس ا۔ وہ دونوں