صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 334 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 334

صحيح البخاری جلد ا ۳۳۴ ۵- كتاب الغسل یح امام بخاری نے احکام عسل بیان کرنے سے پہلے دو آیتوں کو منتخب کیا ہے۔ ان میں سے ایک آیت سورۃ مائدہ کی ہے اور دوسری سورہ نساء کی ۔ پہلی میں جنبی کے لیے فاص کے لیے فَاطَّهَّرُوا ہے اور دوسری میں ہے اور دوسری میں تَغْتَسِلُوا ہے۔ ہے اور د یعنی اظہار سے مراد غسل کرنا ہے ۔ امام موصوف کا یہ انتخاب بھی درحقیقت ان کے اس اصل کے ماتحت ہے کہ احادیث نبویہ میں وارد شدہ احکام بھی قرآن مجید کے حکموں کی تشریح و تفصیل ہیں ۔ قرآن مجید اصل ہے اور حدیث اس کے تابع ۔ قرآن مجید نے جنبی کے لیے ایک جگہ فَاطَّهَّرُوا کا لفظ اختیار کیا اور دوسری جگہ تَغْتَسِلُوا۔ یہ اس لیے کہ جنبی کو عام طور پر نا پاک سمجھا جاتا رہا ہے اور بعض مذاہب میں تو اس کی ناپاکی کی شدت ظاہر کرنے کے ۔ نے کے لیے غایت درجہ مبالغہ سے کام لیا گیا ہے۔ مگر اسلام نے اس ناپاکی کو عارضی قرار دیا ہے جو نہانے سے دور ہو جاتی ہے جیسا کہ لفظ فَاطَّهَّرُوا دلالت کرتا ہے ۔ امام موصوف نے بھی احکام جنابت و طہارت بیان کرنے کے ضمن میں اسی تعلق کو مد نظر رکھتے ہوئے سورہ مائدہ کی آیت کو دوسری آیت پر مقدم رکھا ہے تا کہ اس تقدیم سے کتاب الغسل کا اصل موضوع یعنی طہارت نظر کے سامنے رہے۔ جنبی کے متعلق عربوں میں بعض تو ہمات تھے جن کا ازالہ اسلام نے کیا۔ یہ تو ہمات ان میں غالباً ۔ ا غالبا یہودیوں سے آئے جو جنبی سے شدید نفرت رکھتے تھے۔ ان کے نزد یک خروج منی کی وجہ سے آدمی ناپاک سمجھا جاتا ، خواہ احتلام کی حالت میں ہو یا جماع کی حالت میں یا جریان کی وجہ سے۔ اس کا بستر ابھی نا پاک ، اس کی چار پائی بھی نا پاک ، اس کو چھونے والا بھی ناپاک ، اس کی سواری بھی ناپاک اور وہ چیز بھی نا پاک جس کو جنبی چھو بیٹھے۔ اور نہانے کے بعد بھی وہ سارا دن ناپاک رہتا تھا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوتا اور پھر وہ دوبارہ پاک ہوتا۔ (دیکھئے: اخبار باب ۱۵۔ استثناء باب ۲۳، آیت ۹) قدیم زمانہ سے لوگوں نے جنبی کے متعلق سخت سے سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ تو رات نے تو احتلام یا جریان والے پر علاوہ دیگر پابندیوں کے دوقسم کی قربانیاں بھی لازم کر دی تھیں۔ ان قربانیوں کے دینے کے بعد جنبی پاک سمجھا جاتا تھا۔ مرد اور عورت دونوں اس ناپاکی کی مصیبت میں گرفتار تھے جس سے شارع اسلام رحمۃ للعالمین نے آکر انہیں نجات دلائی ۔ عربوں میں بھی اسی قسم کے غلط خیالات رائج تھے، جن کی وجہ سے ہم احادیث نبویہ اور آثار صحابہ میں یہ پڑھتے ہیں : الإِنْسَانُ لَا يُجْنِبُ وَالثَّوْبُ لَا يُجْنِبُ وَالْمَاءُ لَا يُجْنِبُ وَالْأَرْضُ لَا تُجْنِبُ - (لسان العرب تحت لفظ جنب - جلد اول صفحہ ۶۹۳) انسان جنبی نہیں ہوتا ، کپڑا اجنبی نہیں ہوتا ، پانی جنبی نہیں ہوتا اور زمین جنبی نہیں ہوتی ۔ یعنی انسان کے جنبی ہونے کا اثر اس کے نفس کی پاکیزگی پر نہیں پڑتا اور نہ ہی یہ چیزیں جنبی کے چھونے سے ناپاک ہوتی ہیں۔ اسلام نے الفاظ تو وہی رکھتے ہیں جو عربوں میں مستعمل تھے۔ مگر اس نے ان الفاظ کے معانی میں تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ معانی کا وہ حصہ جو بُرا ا کا وہ حصہ جو بُرا تھا رڈ کر دیا اور جو اچھا تھا بحال رکھا یا عند الضرورت اس میں کمی بیشی کر دی یا اگر کسی اصطلاح کے تبدیل کرنے کی ضرورت دیکھی تو وہ اصطلاح تبدیل کر دی۔ جنب کے لغوی معنی وہ شخص جو الگ رہے۔ (لسان العرب